اپنے گھر کو پُرسکون اور آرام دہ بنائیں

   

گھر میں اشیاء کے رنگ، بنیادی تصور یا خاکے ایسے ہونے چاہئیں جن پر نگاہ پڑتے ہی سٹریس دور ہو جائے۔اکثر ہم سے اسی جگہ غلطیاں سرزد ہوتی ہیں یوں گھروں کی غیر متوازن آرائش ذہنی کوفت میں مبتلا رکھتی ہے۔ذیل میں چند تجاویز پیش کی جا رہی ہیں جو مکان کی مکانیت کی گنجائش اور آرائش کے تصورات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ننانوے فیصد لوگ اس بات کومانتے ہیں کہ گھر کی ترتیب بدل دینے سے زندگی پُرسکون اور ذہن پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔آئیے آپ کو چند ایسے طریقے بتاتے ہیں جن کو اپنا کر آپ بھی اپنے گھر کو پُرسکون اور آرام دہ بنا سکتی ہیں۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ چیزیں جمع کرنے کی عادت ترک کیجئے اورغیر ضروری سامان سے چھٹکارا حاصل کریں۔ ایک جاپانی مصنف نے کہا ہے ہر وہ چیز جو آپ کو خوشی نہیں پہنچا رہی اور گھر کیلئے ضروری نہیں، اسے اپنے ہاتھوں میں تھام کر ایک نظر بھر کے دیکھیں، اس کے ہونے کا شکریہ ادا کریں اور عطیہ کر دیں۔
صاف ستھرا ماحول: گھر کی صفائی کو اپنے خیالات، اپنی دنیاوی فکر، اپنی پریشانیوں کی صفائی خیال کیجئے اور دھول مٹی کے ساتھ اسے بھی پونچھ ڈالیں۔ سادہ زندگی گزارنے والے زیادہ خوش رہتے ہیں۔گھر میں سامان کم ہو گا تو صرف گھر ہی نہیں بلکہ ذہن و دل میں بھی کشادگی آئے گی۔
دھیمے رنگ:کیا آپ جانتی ہیں کہ سبز رنگ سے منفی تاثر ختم کیا جا سکتا ہے۔گھر کے اندر قدرتی سبز رنگ استعمال کیجئے۔یہ رنگ پودوں کی شکل میں گھرمیں لایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے دھیمے رنگ جو گھر کی دیگر اشیاء کے ساتھ متناسب تاثر پیدا کریں وہ بھی اہم ہیں۔بھڑکیلے رنگ اور چمکیلے سامان سے کنارہ کشی بہتر ہے۔
سجاوٹی سامان: اگر گھر کو آرام و سکون کا مرکز بنانا چاہتی ہیں تو سادگی اس کا پہلا اصول ہے۔جب سادگی اپنا لی جائے گی تو صرف بنیادی اور ضروری سامان گھر میں لایا جا سکے گا اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ سجاوٹی چیزوں کیلئے گھر میں جگہ باقی نہیں بچے گی۔اس لئے گھر میں پینٹنگ، فوٹو فریم، گلدان شوپیس جمع کرنے کا سلسلہ ترک کر دیں۔ صرف وہ چیزیں گھر میں ہونا کافی ہیں جو آپ کو بے حد عزیز ہیں اور جن کا گھرمیں ہونا سکون کا باعث ہے۔آپ کے بستر پر اضافی تکیے اور کشنز ضرورت کے ساتھ ساتھ اضافی آرائش کا مقصد پورا کرتے ہیں۔انہیں دیکھ کر تصویروں میں سجا ہوا سونے کا کمرہ آرام دہ اور پُرسکون رہائش کا تصور پیش کرتا ہے۔آپ بھی اپنے بستر کو بیڈ سپریڈ کی مدد سے آراستہ کریں۔ بڑے بستر پر پانچ کشنز اور چھوٹے پر تین کشنز رکھ دیں، اچھے لگیں گے۔غیر ضروری اشیاء کی بھرمار ذہنی دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔اضافی چیزیں ضرورت مندوں کو دے دیا کریں اور اسی طرح سٹور روم کا بہت سا انبار ٹھکانے لگے گا۔ اگر پُرتکلف مہمانداری نہ ہو رہی ہو یا آپ کچن میں رکھی میز پر کھانا کھا رہے ہوں تو ضروری نہیں کہ ایک ہی رنگ اور ڈیزائن کے برتن استعمال کریں لیکن کوشش یہی کرنی چاہئے کہ برتن یقینی طور پر مہنگے نہ ہوں مگر رکھنے میں خوبصورت اور شاندار نقوش کے ہوں تاکہ افسردگی دور ہو۔ اگر ’’مس میچڈ‘‘ برتن استعمال کریں تو بھی قباحت نہیں! بس مہمانوں کے سامنے ایسا نہ کریں۔مہمانداری کیلئے ڈنر اور ٹی سیٹ علیحدہ رکھیں۔عام استعمال کے برتنوں میں مہمانوں کی تواضع نہ کریں ممکن ہے ان برتنوں کی بد وضعی بھی سٹریس کا سبب بن رہی ہو۔ انٹیریئرز تھیریپسٹ کے مطابق اگر گھر کا ماحول پُرسکون ہو تو گھر میں رہنے والے کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔یعنی گھر سے غیر ضروری اشیاء کو نکال کر زندگی میں کئی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔