اپوزیشن اتحاد کو پھر جھٹکا

   

Ferty9 Clinic

ملک میں بی جے پی سے مقابلہ کیلئے اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کی ضرورت کو سبھی گوشوں سے ضروری قرار دیا جا رہا ہے ۔ کئی جماعتیں اس خیال کا اظہار کر رہی ہیں کہ بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں کامیابیوں سے روکنے کیلئے ضروری ہے کہ اپوزیشن کی صفوں میں مکمل اتحاد ہونا چاہئے ۔ اہم مسائل پر اختلافی رائے کی بجائے مشترکہ آواز اٹھانے پر زور دیا جاتا رہا ہے ۔ وقفہ وقفہ سے کوئی جماعت اس تعلق سے اظہار خیال کرتی ہے ۔ کچھ جماعتوں کی جانب سے اس سلسلہ میں پہل بھی کی جاتی رہی ہے ۔ حالانکہ ہر مرتبہ پہل کامیاب نہیںہوئی ہے ۔ کچھ پیشرفت بعض مواقع پر ضرور ہوئی ہے لیکن اس کو منطقی انجام تک نہیںپہونچایا جاسکا ہے اور اپوزیشن اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں بی جے پی اور اس کی سیاسی حکمت عملی کامیاب ہوگئی ہے ۔ ملک کے صدارتی انتخاب کے معاملے میںبھی بی جے پی نے شریمتی دروپدی مرمو کوا میدوار بناتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کو روکنے میںکامیاب چال چلی ۔ اوڈیشہ میں بیجو جنتادل کی جانب سے قبائلی خاتون ہونے کے ناطے ان کی تائید کی گئی ۔ اسی طرح جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے بھی دروپدی مرمو کی تائید کی ۔ شیوسینا سے شدید مخالفت کی امید کی جا رہی تھی تاہم اس سے قبل ہی بی جے پی نے بالواسطہ رول ادا کرتے ہوئے شیوسینا ہی کو توڑ دیا اور خود باغی گروپ کی تائید کرتے ہوئے حکومت بنانے میںاہم رول ادا کیا ۔ شیوسینا عملا بہت غیر موثر ہو کر رہ گئی تھی ۔ اسی طرح آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی بھی دروپدی مرمو کی تائید پر مجبور رہی ۔ اس طرح صدارتی انتخاب میں بی جے پی سے مقابلہ کو سخت کرنے اپوزیشن کی کوششیں ناکام رہی تھیں ۔ اب جبکہ نائب صدارتی انتخاب کا عمل شروع ہوگیا ہے تو بی جے پی کو ایسا لگتا ہے کہ مزید کوئی حکمت عملی بنانے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ کانگریس کی مارگریٹ الوا کو امیدوار بنائے جانے سے ترنمول کانگریس ناراض ہے اور اس نے اعلان کردیا ہے کہ وہ نائب صدارتی انتخاب کیلئے ہونے والی رائے دہی میں حصہ نہیں لے گی ۔ ترنمول کانگریس نے یہ اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کی کوششوں کو جھٹکا دیا ہے ۔
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی کانگریس کے ساتھ ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی اتفاق رائے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ صدارتی انتخاب میں کانگریس نے ممتابنرجی کے منتخب کردہ امیدوار یشونت سنہا کی تائید کی تھی اور ان کے حق میں ووٹ کا استعمال بھی کیا گیا تھا تاہم ممتابنرجی جوابی عمل میں مارگریٹ الوا کی تائید کرنے تیار نہیں ہیں اور انہوںنے رائے دہی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو آئندہ صدارتی انتخاب سے قبل بی جے پی سے مقابلہ کیلئے ایک جامع اتحاد کی ضرورت لازمی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے طور پر تنہا بی جے پی سے مقابلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ کچھ جماعتیں ضرور ریاستی سطح پر اپنی طاقت کو منوانے میں کامیاب رہی ہیں لیکن بی جے پی ان کیلئے علیحدہ حکمت عملی بناتے ہوئے انہیں گھیرنے میں کامیاب ہو رہی ہے کیونکہ ان جماعتوںکو اپوزیشن کی تائید و حمایت نہیں مل رہی ہے ۔ بی جے پی اپوزیشن کی صفوں میں اسی انتشار کا زیادہ سے زیادہ حد تک فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوتی جا رہی ہے اور اسے مسلسل انتخابی کامیابیاں مل رہی ہیں۔ کانگریس کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے جہاں بی جے پی ہر ممکن ہتھکنڈہ اختیار کر رہی ہے وہیں دوسری علاقائی جماعتیں بھی کانگریس کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ہی پر عمل پیرا ہیں۔ ان میں ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس اور کے چندر شیکھر راؤ کی تلنگانہ راشٹرا سمیتی سب سے آگے ہیں۔ کچھ اور جماعتوں کو بھی کانگریس سے تحفظات ہیںلیکن ان کا موقف لچکدار رہا ہے ۔
صدارتی انتخاب ہوچکا ہے ۔ نائب صدارتی انتخاب میں بھی بی جے پی کے جگدیپ دھنکر کی کامیابی تقریبا یقینی ہے ۔ اس سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے مابین کسی طرح کا اتحاد نہیں ہے ۔ تاہم آئندہ پارلیمانی انتخابات کیلئے اپوزیشن کی صفوں میں کسی زیادہ قابل قبول لیڈر کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ اس معاملے میں انفرادی اختلافات کو بالائے طاق رکھنے اور وسیع تر سیاسی و اپوزیشن مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اگر آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل مشترکہ حکمت عملی بنانے میں کامیاب نہیں ہونگی تو بی جے پی اس کا بھی فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجائے گی ۔