اسے بھی حال نے بے حال کردیا ہوگا
پرانے دَور کے قصے بہت سناتا ہے
آئندہ صدارتی انتخابات کیلئے سرگرمیوں کا آج سے عملا آغاز ہوگیا ۔ جہاں برسر اقتدار این ڈی اے اتحاد کی امیدوار شریمتی دروپدی مرمو کا پرچہ نامزدگی پہلے ہی داخل ہوگیا تھا وہیں اپوزیشن جماعتوں کے متحدہ امیدوار یشونت سنہا نے بھی آج اپنا پرچہ نامزدگی داخل کردیا ۔ یشونت سنہا کے پرچہ نامزدگی کے ادخال سے یہ طئے ہوگیا کہ صدارتی انتخاب کیلئے رائے دہی ہوگی ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 29جون ہے اور 18 جولائی کو اس پر رائے دہی ہوگی۔ آج یشونت سنہا کا پرچہ نامزدگی داخل کرنا ایک طرح سے اپوزیشن کے اتحاد کی علامت بنا ہے ۔ ابتداء میں اپوزیشن جماعتوں کو اپنے صدارتی امیدوار کے انتخاب ہی میں مسائل کا سامنا تھا ۔ سب سے پہلے این سی پی سربراہ شرد پوار کو اس کیلئے تیار کرنے کی کوشش کی گئی جنہوں نے اس کو قبول نہیں کیا ۔ پھر جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر فاروق عبداللہ سے رابطہ کیا گیا اور انہوں نے بھی اس کیلئے رضـامندی نہیں کی ۔ تب کہیں جا کر ترنمول کانگریس کے لیڈر یشونت سنہا کو اس امیدواری کیلئے تیار کیا گیا ۔ یشونت سنہا کی امیدواری کو تمام اپوزیشن جماعتوں نے قبول کیا اور ان کی تائید ہی سے مسٹر سنہا نے آج اپنا پرچہ نامزدگی داخل کردیا ۔ حالانکہ یشونت سنہا متحدہ اپوزیشن کے امیدوار ہیں لیکن انہیں درکار عددی طاقت حاصل نہیں ہے ۔ ان کی شکست کو یقینی بھی کہا جا رہا ہے تاہم اصل بات یہ ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کے سامنے ایک متحدہ موقف پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ جن اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف امیدوار کی تائید کا اعلان کیا ہے وہ اہمیت کی حامل ہیں۔ خاص طورپر ریاستی اور مقامی سطح پر ایک دوسرے سے اختلاف اور مقابلہ کا جذبہ رکھنے والی جماعتیں بھی یشونت سنہا کی تائید میں ایک پلیٹ فارم پر نظر آئی ہیں۔ این ڈی اے نے اپنی امیدوار کی کامیابی کا راستہ پہلے ہی صاف کرلیا ہے ۔ اسے آندھرا پردیش کی وائی ایس آر کانگریس کی تائید ہے ‘ اوڈیشہ کی بیجو جنتادل کی تائید حاصل ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی کی بھی اسے تائید حاصل ہے ۔ اس طرح شریمتی دروپدی مرمو کی کامیابی تقریبا یقینی سمجھی جا رہی ہے ۔
تاہم اپوزیشن نے جس طرح سے این ڈی اے اتحاد کے سامنے مشترکہ موقف پیش کرتے ہوئے مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے وہ اہمیت کا حامل ہے ۔ جس طرح سابق کانگریس صدر راہول گاندھی نے واضح کیا کہ یہ مقابلہ در اصل دو نظریات کے مابین ہے ۔ ایک طرف آر ایس ایس کا نظریہ ہے جو طاقت اور نفرت میں یقین رکھتا ہے جبکہ دوسری طرف پرامن بقائے باہم کے نظریہ کو ماننے والی طاقتیں ہیں۔ خود اپوزیشن کے صدارتی امیدوار یشونت سنہا نے بھی اسی خیال سے اتفاق کیا ہے اور کہا کہ ایک طرف وہ نظریہ ہے جو مکمل طاقت میں یقین رکھتا ہے تو دوسری طرف آزادی کی حمایت کرنے والا نظریہ ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے جس طرح سے اتحاد کو یقینی بنایا ہے وہ اہمیت کا حامل ہے ۔ انتخابات کی ہار جیت اپنی جگہ ہے لیکن متحدہ مقابلہ کے ذریعہ نہ صرف حکومت بلکہ ملک کے عوام کو بھی ایک پیام دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ آئندہ پارلیمانی انتخابات کیلئے اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کی کافی اہمیت ہے ۔ اگر اس اتحاد میں بی جے ڈی ‘ وائی ایس آر کانگریس اور اکالی دل وغیرہ کو بھی شامل کرلیا گیا ہوتا تو پھر مقابلہ اور بھی سخت اور دلچسپ ہوسکتا تھا اور نتیجہ پر بھی اس کے اثرات ہوسکتے تھے ۔ تاہم اپوزیشن نے اتحاد کی کوششوں میں تاخیر کی اور اتفاق رائے بنانے میں وقت درکار ہوا جس کے نتیجہ میں این ڈی اے کو سبقت لیجانے کا موقع مل گیا ۔ اپوزیشن کی کوششیں تاخیر سے شروع ہوئیں تاہم اچھی بات یہ ہے کہ تمام جماعتوں میں اتفاق رائے ضرور ہوا ہے ۔
صدارتی انتخابات کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ان جماعتوں کو اب آئندہ پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی ۔ جس طرح سے ٹی آر ایس نے اپوزیشن امیدوار کی تائید کا فیصلہ کیا اور تلنگانہ کے وزیر کے ٹی آر نے پرچہ نامزدگی کے ادخال کے وقت موجودگی کو یقینی بنایا وہ بھی اچھی علامت ہے ۔ مخالف بی جے پی جماعتوں کو اپنے موقف کو کھل کر پیش کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن کو صدارتی انتخاب کے نتیجہ سے قطع نظر آئندہ کی حکمت عملی بنانے پر توجہ کرتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس حقیقت سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا کہ اتحاد تمام اپوزیشن جماعتوں کی بقاء کیلئے ضروری ہے ۔
