عام آدمی پارٹی کے پنجاب یونٹ صدر اور رکن پارلیمنٹ بھگونت مان نے آج ایک انکشاف کیا کہ انہیں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے لالچ دی گئی ہے ۔ بھگونت مان نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے انہیں فون کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اگر بی جے پی میں شامل ہوجاتے ہیں تو پھر انہیں بھاری رقم ادا کی جائے گی اور مرکزی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے اہم قلمدان بھی دیا جائیگا ۔ بھگونت مان نے حالانکہ اس بی جے پی لیڈر کا نام تو نہیں بتایا ہے جس نے انہیں فون کیا ہے لیکن یہ ضرور کہا کہ چاہے کتنی ہی رقم دی جائے انہیں خریدا نہیں جاسکتا ۔ وہ ایک مشن پر ہیں کمیشن پر نہیں ہیں۔ وہ عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی چاہے جتنی کوششیں کرلے عوام نے ان میں جس یقین اور اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کو خریدا نہیں جاسکتا ۔ بی جے پی نے فوری ردعمل میں واضح کردیا کہ یہ صرف سیاسی شعبدہ بازی ہے اور تشہیر حاصل کرنے کی کوشش ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ بھگونت مان کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے ملک کی کئی ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں کمزور کیا ہے اور خود اپنی حکومتیں تشکیل دی ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے گوا ‘ کرناٹک اور مدھیہ پردیش کی مثال پیش کی اور کہا کہ خود مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس کے کئی قائدین کو لالچ دے کر یا خوفزدہ کرتے ہوئے اپنی پارٹی میں شامل کیا تھا ۔ بی جے پی ان الزامات کو مسترد کرچکی ہے ۔ تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں عوامی منتخبہ نمائندوں کی خرید و فروخت عام بات ہوتی جا رہی ہے ۔ عوام کے ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی جماعتیں اب اپنی سیاسی طاقت اور دولت کے بل پر دوسری جماعتوں کو اور عوامی منتخبہ حکومتوںکو زوال کا شکار کرتے ہوئے خود اقتدار پر فائز ہونے کی کوششیں کر رہی ہیں اور کچھ مواقع پر ایسی کوششیں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ کرناٹک ‘گوا اور مدھیہ پردیش ایسی مثالیں ہیںجہاں بی جے پی نے یہ کھیل کھیلا ہے ۔
بھگونت مان نے حالانکہ بی جے پی کی جانچ سے لالچ دینے والے لیڈر کا نام تو نہیں بتایا ہے لیکن انہوں نے جو الزامات عائد کئے ہیںوہ سنگین نوعیت کے ہیں۔ اگر ان الزامات میں سچائی تب تو یہ بہت ہی سنگین کہے جاسکتے ہیں لیکن اگر ان میں سچائی نہیں ہے تب بھی یہ ایک سیاسی کھیل ہے جو سنگین نوعیت ہی کا ہے ۔ جس طرح سے بی جے پی کی جانب سے مخالف جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں کمزور کیا جا رہا ہے اس کی کئی مثالیں ہمارے ملک میں موجود ہیں۔ کئی ریاستوں میں مقامی جماعتوں کے قائدین کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں خوفزدہ کیا گیا ۔ انہیں نشانہ بنایا گیا اور جب یہ قائدین خوفزدہ ہوتے ہوئے یا پھر مقدمات کی وجہ سے بی جے پی میں شامل ہوگئے تو انہیں نہ صرف راحت دی گئی اور مقدمات کو برفدان کی نذر کردیا گیا بلکہ انہیں عہدے اور وزراتیں تک بھی دی گئی ہیں۔ مغربی بنگال میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا تھا اور بی جے پی کے اثر سے ترنمول کانگریس چھوڑنے والے قائدین اب ایک بار پھر ترنمول میں واپسی کر رہے ہیں۔ انہیں عہدوں کا لالچ دیا گیا تھا ۔ انہیں مقدمات سے خوفزدہ کیا گیا تھا اور کئی ہتھکنڈے اختیار کئے گئے تھے ۔ مدھیہ پردیش میں بھی جیوتر آدتیہ سندھیا کو پارلیمنٹ کی رکنیت اور کابینہ میں شمولیت کا لالچ دیتے ہوئے پارٹی میں شامل کیا گیا جس کے عوض انہوں نے کانگریس سے کچھ ارکان اسمبلی کے ساتھ انحراف کیا اور مدھیہ پردیش میں چور دروازے سے بی جے پی نے اقتدار سنبھال لیا ۔
بی جے پی نے گوا میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا ۔ وہاں بھی اقلیت میں رہتے ہوئے اس نے دوسری چھوٹی جماعتوں کو اپنے اثر میں لیا اور اقتدار سنبھال لیا ۔ کرناٹک میں منتخبہ اور موجودہ حکومت کو زوال کا شکار کرنے کیلئے ارکان اسمبلی کو لالچ دیا گیا اور انہیں انحراف کیلئے ترغیب دی گئی ۔ کچھ ارکان کو بعد میں کابینہ میں شامل کرلیا گیا ۔ ان مثالوںکو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی نے شائد بھگونت مان کو بھی خریدنے کی کوشش کی ہو ۔ اس سارے معاملے کی جانچ ہونی چاہئے اور اگر یہ الزامات درست نہ پائے جائیں تو پھر خود بھگونت مان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے تاکہ دوسرے لیڈرس ایسی شعبدہ بازی سے گریز کریں۔
