اپوزیشن کا انتشار برقرار

   

Ferty9 Clinic

بی جے پی کی مسلسل کامیابیوںاوراپوزیشن کی صفوںمیںدراڑیں ڈالنے کی کوششوں کا سلسلہ روکنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کو جس قدر اتحاد کی ضرورت ہے ان کی صفوںمیں اسی قدر انتشار دکھائی دے رہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے طور پر تو باہمی اتحاد کی اہمیت پر زور دیتی ہیں اور ایک دوسرے کو اتحاد کی تلقین بھیکرتی ہیںتاہم جہاں سبھی جماعتوں کے مل بیٹھنے اور کوئی مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے اور حکومت کو یا بی جے پی کو مشکلات کا شکار کرنے کی بات آتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ جماعتیں مصلحت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ انہیںاتحاد سے زیادہ مصلحت میں عافیت دکھائی دیتی ہے اور اس صورتحال کا بی جے پی کی جانب سے مسلسل فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔ ہر اہم موقع پر اپوزیشن کی جانب سے اتحاد کا موقع گنوا دیا جاتا ہے اور بی جے پی اس کااستحصال کرنے لگتی ہے ۔ ماضی میں اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے آچکی ہیں ۔ اب بھی اپوزیشن جماعتوں کے پاس صدارتی انتخاب کا موقع دستیاب ہے ۔ اس موقع سے حالانکہ بی جے پی یا حکومت کو شکست دینا آسان نہیں ہے لیکن حکومت کو یا بی جے پی کو مشکلات کا شکار کرکے اپوزیشن کے حوصلے بلند ضرور ہوسکتے ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس طرح کا کوئی موقف اختیار کرنے تیار نہیں ہیں۔ صدارتی انتخاب کے مسئلہ پر ہر جماعت اپنی اپنی الگ رائے رکھتی ہے اور ایسی رائے یا ایسا موقف نہ ان کیلئے کوئی فائدہ مند ہوگا اور نہ اپوزیشن اتحاد کیلئے اس سے کوئی راہ نکل پائے گی ۔ ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی کی جانب سے صدارتی انتخاب کے مسئلہ پر اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی طئے کرنے ایک اجلاس طلب کیا گیا تھا ۔ اس اجلاس میں بھی خود اپوزیشن کے مابین اختلافات دکھائی دئے ۔ ممتابنرجی نے این سی پی لیڈر شرد پوار کو اپوزیشن امیدوار بنانے کی خواہش کی تاہم خود شرد پوار نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا کیونکہ انہیںاندازہ ہے کہ اپوزیشن متحد ہونے تیار نہیں ہے ۔اس صورت میں وہ بی جے پی کیلئے زیادہ مشکلات پیدا نہیں کر پائیں گے ۔
اپوزیشن جماعتوں کا جہاں تک سوال ہے وہ ایسا لگتا ہے کہ اپنی اپنی مجبوریوں کا شکار ہوگئی ہیں۔ آج ممتابنرجی کے طلب کردہ اجلاس میں جب وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف قرار داد پیش کی گئی تو کئی جماعتوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ اجلاس صرف صدارتی انتخاب کے مسئلہ پر غور کرنے کیلئے طلب کیا گیا تھا ۔ اس میں دوسرے ایجنڈہ کو شامل نہیں کیا جانا چاہئے ۔ دیگر جماعتوں کا موقف اپنی جگہ حق بجانب کہا جاسکتا ہے لیکن ممتابنرجی کو بھی اپنے سیاسی اختلاف کا مظاہرہ کرنے اس موقع ک استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ ممتابنرجی کے اجلاس کی اہمیت اپنی جگہ ضرور تھی لیکن کچھ جماعتوں نے اس میں شرکت نہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی تھی ۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر ے چندر شیکھر راؤ کی ٹی آر ایس نے بھی اجلاس میںشرکت نہیں کی ۔ ان کا اعتراض تھا کہ اس میں کانگریس کو مدعو کیا گیا ہے ۔ یہی اعتراض عام آدمی پارٹی اور اکالی دل نے بھی ظاہر کیا تھا ۔ جہاں تک عددی طاقت کی بات ہے تو انتہائی کمزور حالت میںبھی کانگریس سب سے بڑی اور مستحکم علاقائی جماعت سے زیادہ طاقت رکھتی ہے ۔ اس حقیقت کو کچھ جماعتیں نظر انداز کر رہی ہیں کیونکہ انہیں اپنی اپنی ریاست میں کانگریس سے مقابلہ درپیش ہے ۔ اسی لئے وہ اپنے فائدہ کیلئے اپوزیشن اتحاد کو عملا سبوتاج کر رہی ہیں۔ کانگریس سے مقابلہ وقت پر کیا جاسکتا ہے فی الحال ضرورت اپوزیشن اتحاد کی تھی ۔
صدارتی انتخاب میں اگر اپوزیشن کے مابین اتحاد ہوجاتا اور بی جے پی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تو اس سے علاقائی اور دیگر جماعتوں کے حوصلے بلند ہوتے ۔ وہ بھی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کیلئے تیار ہوجاتیں۔ اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں بھی اتحاد کی کوشش ہوسکتی تھی ۔ بی جے پی کی تیسری معیاد کو روکنے کیلئے یہ اتحاد بہت ضروری بھی ہے تاہم اپوزیشن کو اپنی اپنی ریاست کی فکر لاحق ہے اور کوئی بھی اس حقیقت کو سمجھنے تیار نہیں ہے کہ آج کانگریس کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے تو کل ان کی بھی باری آئے گی اور اس وقت ان کی مدد کیلئے بھی کوئی آگے آنے کی ہمت نہیں کر پائے گا ۔ اپوزیشن اس اتحاد کو جتنا جلد سمجھ لے اتنا بہتر ہے ۔