اپوزیشن کا وجود کیوں برداشت نہیں

   

Ferty9 Clinic

ملک میں جس طرح کے حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ حکومتوں اور برسر اقتدار جماعتوںکواپوزیشن کا وجود برداشت نہیںہو رہا ہے ۔ ہندوستان کو ایک جماعتی نظام کی سمت ڈھکیلا جا رہا ہے ۔یہ ملک کی جمہوریت کیلئے سنگین مسئلہ ہوسکتا ہے ۔ جس طرح سے اپوزیشن ارکان کو پارلیمنٹ سے معطل کیا جا رہا ہے اور سڑکو ں پر احتجاج کرنے والے قائدین کو گرفتار کیا جا رہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی آواز کو برداشت کرنے تیار نہیں ہے اور اپنے خلاف اٹھنے والی تمام مخالفانہ آوازوں کو دبانا چاہتی ہے ۔ چاہے وہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہو ‘ سماجی کارکنوں کی جانب سے ہو ‘ طلبا برادری کی جانب سے ہو یا پھر صحافیوں کی جانب سے ہو۔ ہر گوشے کو طاقت کے استعمال سے دبانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور یہ ساری کوششیں جمہوری روایات اوراقدار کے مغائر کہی جاسکتی ہیں۔ پہلے تو پیر کو لوک سبھا سے کانگریس کے چار ارکان پارلیمنٹ کو ایوان سے سارے سشن کیلئے معطل کردیا گیا ۔ آج اپوزیشن جماعتوںسے تعلق رکھنے والے راجیہ سبھا کے گیارہ ارکان کو سارے ہفتے کیلئے معطل کردیا گیا ۔ ان ارکان پر الزام ہے کہ ان کا رویہ ٹھیک نہیں تھا ۔ یہ ارکان ایوان میں عوامی مسائل پر مباحث کروانا چاہتے تھے ۔ اپنی بات رکھنا چاہتے تھے ۔ حکومت سے سوال کرتے ہوئے جواب طلب کرنا چاہتے تھے ۔ حکومت ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی سوال کا جواب دینے کو تیار نہیں ہے ۔ حکومت اپنے انداز میں حکومتی کام کاج کو آگے بڑھانا چاہتی ہے ۔ وہ اپوزیشن کی رائے اور اعتراضات کو قبول کرنے یا کم از کم ان کا جائزہ لینے تک کیلئے بھی تیار نظر نہیںآتی ۔ اپوزیشن کے جن ارکان کو پارلیمنٹ سے معطل کیا گیا ہے ان کا اصرار یہی تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ‘ افراط زر ‘ فیول قیمتوں اور جی ایس ٹی شرحوں میںاضافہ جیسے اہم مسائل پر ایوان میں تبادلہ خیال کیا جائے کیونکہ ان کی وجہ سے ملک کے عوام پر مسلسل اضافی بوجھ عائد ہوتا جا رہا ہے ۔ عوام ہر ضروری شئے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے کیلئے مجبور کئے جا رہے ہیں اور ان کی حالت ابتر ہوتی جا رہی ہے ۔
جی ایس ٹی کی شرحوں کا مسئلہ ہو یا پھر افراط زر کی شرح ہو یا پھر فیول قیمتیں ہوں ان تمام مسائل کا راست تعلق ملک کے عوام سے ہے ۔ ان کی جیبوں پر عائد ہونے والے بوجھ سے ہے ۔ ان کی روزمرہ اور گھریلو زندگی سے ہے ۔ ان کے مسائل کو پارلیمنٹ میںپیش کرنا ارکان کی ذمہ داری ہے ۔ چاہے وہ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں یا پھر خود برسر اقتدار جماعت ہی سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں۔ ان سارے مسائل کو پر ایوان میں مباحث ہونے چاہئیں۔ ایوان میں حکومت اپوزیشن کی تنقیدوں کا جواب دے سکتی ہے ۔ اپوزیشن کے جو سوال ہے ان پر اپنے موقف کی وضاحت کرسکتی ہے ۔ اگر اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدیں بے بنیاد ہیں اور محض الزامات تک محدود بھی ہیں تب بھی حکومت اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ملک کے عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو حل کرسکتی ہے ۔ جو صورتحال حکومت کو درپیش ہے اس سے ممکنہ حد تک عوام کو واقف کروایا جاسکتا ہے ۔ عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے حکومت کو پارلیمنٹ سے زیادہ اہم اور بڑا کوئی پلیٹ فارم دستیاب نہیں ہوسکتا ۔ اب جبکہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس چل ہی رہا ہے تو حکومت کو عوام کو درپیش مسائل پر مباحث سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ حکومت اور اس کے ذمہ ذار بارہا کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی مسائل ہوں حکومت ان پر ایوان میں مباحث کیلئے تیار ہے ۔ تاہم یہ صرف ایک زبانی جمع خرچ کی بات ہوگئی ہے کیونکہ ایوان میںمباحث کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔
ہندوستان کی جو جمہوری روایات رہی ہیں ان میںاختلاف رائے کا احترام سب سے اہم رہا ہے ۔حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تنقیدیں اگر تعمیری نوعیت کی ہیں تو ان کو قبول کرنا چاہئے کیونکہ عوام کو راحت پہونچانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو عوامی مسائل پر بیدار کرنا اپوزیشن کا فریضہ ہے ۔ جب تک دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیںکرینگے اس وقت تک عوام کو مسائل سے نجات نہیں مل سکتی ۔ ایوان میںنظم برقرار رکھنا اور کارروائی چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری اپوزیشن کی آواز کو دبا کر پوری نہیں کی جاسکتی ۔