یہ نزدیکی، دوری بھی ہوسکتی ہے
اس کی کوئی مجبوری بھی ہوسکتی ہے
اپوزیشن کی صفوں میں ہلچل
ملک کی اپوزیشن جماعتوں میںقدرے ہلچل نظر آ رہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ان جماعتوں کو یہ احساس ہوچکا ہے جب تک وہ سرگرم نہیں ہونگے اور عوامی مسائل پرجدوجہد نہیںکریں گے اس وقت تک انہیں عوامی تائید نہیں مل پائے گی ۔ اکثر یہ شکایت ہوا کرتی تھی کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل میں ناکام ہورہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے نت نئے انداز سے عوام پر مالیاتی بوجھ عائد کیا جاتا رہا ہے ۔ کبھی پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میںاضافہ کرتے ہوئے تو کبھی پکوان گیس کی قیمت بڑھاتے ہوئے ۔ اب حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میںاضافہ کیا جا رہا ہے اور پھر ٹال ٹیکس بھی بڑھادیا گیا ہے ۔ حکومت کے مختلف اقدامات ایسے ہیں جن کے نتیجہ میں عوام کومسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عوام کی مشکلات اور تکالیف کو آواز دینے میں اپوزیشن جماعتیں ناکام رہی تھیں جبکہ یہ ان کا اولین فریضہ ہے ۔ عوام کو درپیش مسائل پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے صرف بیان بازیاں کرنے پر ہی اکتفاء کیا جاتا تھا ۔ مرکز میں حکومت جس انداز سے کام کر رہی ہے جس کو بیان بازیوں کے ذریعہ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔عوام کے درمیان پہونچتے ہوئے حکومت کے زر خرید میڈیا کے پروپگنڈہ کے اثر کو کم کرنے کی ضرورت تھی جس کو اپوزیشن جماعتیں پورا نہیں کر پا رہی تھیں۔ اب ایسا تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں شائد اس حقیقت کو قبول کرچکی ہیں اور ان کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ یہ ہلچل وقتی طور پریا پھر صرف پارلیمنٹ تک محدود نہ رہے بلکہ عوام تک پہونچتے ہوئے ان کے مسائل کو اجاگر کرنے اور حکومت کے خلاف شعور اور رائے عامہ بیدار کرنے کی کوشش کی جائے ۔ جب تک ایسا نہیں کیا جائیگا اس وقت تک اپوزیشن کے وجود پر ہی سوال اٹھتے رہیں گے ۔ اپوزیشن کو حکومت سے خوفزدہ ہوئے بغیر اپنے احتجاجی پروگرامس طئے کرنے کی ضرورت ہے اور سڑکوں پر اتر کر جب تک احتجاج نہیں کیا جائیگا یا حکومت کو گھیرا نہیں جائے گا اس وقت تک عوام میں شعور بیدار کرنا یا پھر عوام کی تائید حکومت کے خلاف حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا ۔
حکومت کی جانب سے مسلسل پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میںاضافہ کیا جا رہا ہے ۔ گذشتہ دنوں میں آٹھ مرتبہ قیمتیں بڑھائی گئی ہیں اور جو قیمتیں اترپردیش کے بشمول پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے قبل کم کی گئی تھیں اس قدر اضافہ کر ہی دیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ پکوان گیس کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے ۔ حکومت کے ان اقدامات کے خلاف کانگریس نے پارلیمنٹ میں احتجاج کیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے باہر بھی کانگریس کی قیادت میں احتجاج کیا گیا ۔ جو جماعتیں حکومت کے خلاف موقف رکھتی ہیں انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پارلیمنٹ کے ایوان سے مہنگائی کے مسئلہ پر احتجاجا واک آوٹ کردیا ہے ۔ اس طرح کی سرگرمیاں وقتی طور پر نہیں ہونی چاہئیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ حکمت عملی تیار کرتے ہوئے مسلسل عوامی مسائل پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو اس طرح کے احتجاج کا حصہ بنانے اور انہیں بھی حکومت کے خلاف سڑکوں پر اتارنے کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو جب مخالف حکومت احتجاج کا حصہ بنانے میں کامیابی مل جائے گی تب کہیں جا کر حکومت پر اس احتجاج کا اثر ہوسکتا ہے اور انتخابات میں بھی اس کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال سے خوفزدہ ہوئے بغیر اس جدوجہد کو آگے بڑھایا جانا چاہئے ۔ نہ صرف پٹرولیم قیمتیں بلکہ دیگر کئی مسائل ہیں جن پر حکومت کو گھیرنے کیلئے اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔
جن علاقائی اور غیر بی جے پی جماعتوں کو ایک دوسرے سے مسائل ہیں انہیں بھی اپنے مسائل کو حل کرتے ہوئے ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حقیقت کو سبھی کو ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ تمام جماعتیں مشترکہ اور متحدہ طور پر ہی حکومت کے خلاف مقابلہ کرسکتی ہیں۔ سبھی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں عوام کو ساتھ لانے کی کوشش کریں۔ حکومت کے اقدامات سے ان پر عائد ہونے والے بوجھ کی تشہیر کی جائے ۔ عوام میں اپنے اپنے طور پر شعور بیدار کیا جائے ۔ ایک طویل حکمت عملی اور منصوبہ تیار کرتے ہوئے سبھی جماعتوں کو میدان میں اترنے کی ضرورت ہے ۔
