خیالِ منزلِ جاناں تری دُھائی ہے
ابھی نگاہ میں اپنے پرائے پھرتے ہیں
ملک میں ابھی آئندہ عام چناؤ کیلئے دو سال کا وقت باقی ہے ۔ فی الحال ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات چل رہے ہیں۔ کچھ ریاستوں میں پولنگ ہوچکی ہے اور کچھ میں ہونی باقی ہے ۔ مختلف مراحل میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اسی طرح آئندہ سال بھی کچھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں عوام کی توجہ عام انتخابات پر نہیں ہے تاہم اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چیف منسٹروں کی جانب سے وفاقی سطح پر بی جے پی کے خلاف محاذ بنانے کیلئے کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ ان کوششوں میں چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی اور چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ زیادہ سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ دونوں کھلے عام بیان بازیاں بھی کر رہے ہیں اور بی جے پی کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے ۔ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں لگاتار تیسری معیاد کیلئے عوام کی تائید حاصل کرنے کے بعد ممتابنرجی کے تیور زیادہ جارحانہ ہوگئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تیور جہاں بی جے پی کے خلاف ہیں وہیں وہ کانگریس کو بھی نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کرچکی ہیں اور اس میں شدت بھی پیدا کردی گئی ہے ۔انہوں نے اپنی پارٹی کو دوسری ریاستوں میں بھی وسعت دینے کی مساعی شروع کی اور اس کوشش میں انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بنانے کی بجائے کانگریس کو نشانہ بنانا شروع کیا ۔ کئی ریاستوں میں کانگریس قائدین کو انحراف کرواتے ہوئے اپنی صفوں میں شامل کرلیا ۔ گوا میںانہوں نے زیادہ توجہ دی تھی لیکن وہاں ان کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں کیونکہ کئی قائدین حالانکہ ترنمول کانگریس میں شامل ضرور ہوئے تھے لیکن چند ہفتوں میں ہی انہوں نے گھر واپسی کو ترجیح دی اور گوا میں ترنمول کانگریس اپنی بنیادوں کو مستحکم کرنے سے قبل ہی عملا بکھر چکی ہے ۔ اسی طرح تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھی اب بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ بھی قومی سطح پر رول ادا کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور اب ممتابنرجی نے کے سی آر کے علاوہ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن سے بھی فون پر تفصیلی بات چیت کی ہے ۔
کے سی آر ہوں یا پھر ممتابنرجی ہوں دونوں ہی کانگریس کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں اور کانگریس کے وجود سے عملا انکار کرر ہے ہیں۔ کانگریس کی نفی کرتے ہوئے دوسری علاقائی جماعتوں کو اپنے ساتھ آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ کانگریس کے بیشتر علاقائی جماعتوں سے تعلقات ٹھیک نہیں رہ گئے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک گیر سطح پر بی جے پی کے خلاف کسی بھی محاذ کو کانگریس کی شمولیت کے بغیر مستحکم نہیں کیا جاسکتا ۔ محاذ کا قیام مشکل نہیں ہے لیکن اس کو استحکام بخشنا اور انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنا محض علاقائی جماعتوں سے ممکن نظر نہیں آتا ۔ کانگریس پارٹی آج اپنے وجود کی لڑائی لڑنے میں مصروف ہے اور اس انتہائی کمزور ترین حالات میں بھی کئی علاقائی جماعتوں سے زیادہ طاقتور کہی جاسکتی ہے ۔ ہر علاقائی جماعت کا عروج یہی ہے کہ وہ اپنی اپنی ریاست میں برسر اقتدار آسکتی ہے لیکن کانگریس آج کی کمزور ترین حالت میں بھی پنجاب ‘ راجستھان جیسی ریاستوں میں برسر اقتدار ہے ۔ مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں اس کے اقتدار کو انحراف کا سہارا لیتے ہوئے زوال کا شکار کردیا گیا ۔ پانچ ریاستوں میں جہاں انتخابات ہو رہے ہیں ان میں گوا اور اترکھنڈ جیسی ریاستوں میں کانگریس کی اقتدار پر واپسی کے آثار ہیں اور پنجاب میں بھی کانگریس اپنے اقتدار کو بچانے میں مشکل کے ساتھ ہی صحیح لیکن کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے ۔
کے سی آر نے مہاراشٹرا کے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے سے بات کی ہے لیکن یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا بھی کانگریس کو چھوڑ کر کسی محاذ میں شمولیت کا خطرہ مول نہیں لے سکتی ۔ اسی طرح ٹاملناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اسٹالن کا بھی کانگریس کے ساتھ اتحادہے ۔ کئی ریاستوں میں کانگریس کا وجود صفر ہوگیا ہے تو کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں کانگریس آج بھی اقتدار کی دعویدار ہے ۔ ایسے میں اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کی کوششوں میں کانگریس کو بھی شامل کرنے کے امکانات پر غور کرنا چاہئے ۔ کسی بھی جماعت یا لیڈر کو ذاتی انا پرستی کو ترک کرکے قومی اور ملک کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اتحاد کی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہئے ۔
