اچھے رشتوں کا حصول مشکل کیوں ہوگیا ہے

   

یہ حقیقت ہے کہ جس طرح دنیا کی دیگر چیزوں سے خیر و برکت اُٹھ گئی ہے اسی طرح اب اچھے رشتوں سے بھی خیر و برکت ختم ہوچکی ہے ۔ ہمارے معاشرے میں خاص طور پر لڑکیوں کے والدین بہت پریشان رہتے ہیں بلکہ خود لڑکی بھی کسی مناسب رشتہ کے انتظار میں بوڑھی ہونے لگتی ہے اس کے سر پر چمکنے والی چاندی اس کے رشتہ کے حصول میں مزید دشواریاں پیدا کرنے لگتی ہے ۔ یہ کسی ایک گھر یا ایک فیملی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ نہ معلوم کتنی لڑکیاں ، کتنے گھر اور کتنے خاندان اس سے متاثر ہورہے ہیں ۔ ماضی میں رشتہ کرانے والی بوائیں بھی اب ناپید ہوگئی ہیں ان کی جگہ اب میرج بیورو نے لے لی ہیں یا پھر انہی رشتہ کرانے والی بواؤں نے اسے ایک منافع بخش کاروبار سمجھ کر اپنا لیا ہے جس کی وجہ سے اچھے رشتہ ملنے مشکل ہوگئے ہیں کیونکہ انہیں تو اپنے معاوضہ سے غرض ہوتی ہے بعد میں جو بھی صورتحال ہوا نہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی نہ ہی وہ بعد کے حالات کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں ۔ جس گھر میں بیٹی جوان ہونے لگتی ہے والدین کی نیندیں اُڑنی شروع ہوجاتی ہیں اور وہ اس کیلئے جہیز اور اچھے رشتہ کی فکر میں لگ جاتے ہیں ہر والدین کی یہی تمنا ہوتی ہے کہ ان کی بیٹی کو اچھا شوہر اور سسرال ملے لہذا وہ اس سلسلے میں بہت احتیاط سے کام لیتے ہیں اور اچھی طرح چھان بین کر کے اپنے داماد کا انتخاب کرتے ہیں مگر ایک دو نہیں کئی لڑکیوں کے ساتھ ایسا دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ نے اپنی بیٹی کیلئے اچھے سے اچھا خاندان تلاش کر کے اس کی شادی کی مگر شادی کے بعد کی صورتحال نے نہ صرف انہیں مشکلات میں ڈال دیا بلکہ لڑکی کو بھی پریشان کرکے رکھ دیا ہوتا ہے۔ گزرے وقتوں کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ محلے کی ’’ رحمت خالہ ‘‘ یا پھر ’’ بوا ‘‘ یا خالہ نصیبو ‘‘ سارے محلے میں اپنی جوتیاں چٹخاتی پھرتی تھیں اور ہر گھر میں موجود جوان لڑکی اور لڑکے سے بخوبی وقفا بھی ہوا کرتی تھیں اور ادھر اُدھر رشتوں کی خبریں دیتی پھرتی تھی ۔ اُس زمانے میں وہ صرف ایک چائے پر ہی گزارہ کرلیا کرتی تھیں یا پھر سو پچاس روپئے مٹھائی کے لیکر خوش ہوجایا کرتی تھیں مگر اب تو بھئی مہنگائی نے ہر ایک کا جینا حرام کردیا ہے اب یہ ’’ رحمت خالہ ‘‘ اور ’’ خالہ نصیبو ‘‘ کسی بھی لڑکی یا لڑکے کے بارے میں معلومات دینے سے قبل ایک ہزار کا نوٹ مانگتی ہیں ۔ جو والدین بہت مجبور ہوتے ہیں وہ ایک ہزار کا نوٹ بھی اس آسرے پر دیدیتے ہیں کہ یہ ان کی بیٹی کا صدقہ سمجھ کر ہی دیدو کیا پتہ یہ ہزار کا نوٹ ان کی بیٹی کے بھاگ جگادے معذرت کے ساتھ آج کی ’’ رحمت خالہ ‘‘ اور ماضی کی ’’ رحمت خالہ ‘‘ میں یہ واضح فرق ہے کہ وہ صرف سو پچاس کے عوض ہی مضبوط اور پائیدار بندھن کیلئے کوشش کرتی تھی جبکہ آج محض اپنی فیس سے تعلق رکھا جاتا ہے کوئی چھان بین نہیں کی جاتی بس مجبور والدین تلاش کرنے کی ضرور کوشش کرنی پڑتی ہے ۔ آج کل کے ہر اخبار میں آپ کی نظر یقیناً ’’ ضرورت رشتہ ‘‘ کے اشتہار پر ضرور پڑتی ہوگی جو اتنے پرکشش انداز میں شائع کروایا جاتا ہے کہ ہر کوئی رابطہ کرنے پر ایک مرتبہ ضرور مجبور ہوجاتا ہے ۔ گزشتہ دور میں رشتہ نیک نیتی اور ثواب کے جذبہ کے تحت کروائے جاتے تھے جبکہ آج اس نے کاروبار کی شکل اختیار کرلی ہے اور یہ کافی منافع بخش کاروبار بن چکا ہے آپ نے اکثر یہ بھی پڑھا ہوگا کہ ’’ ہمارے یہاں مفت فی سبیل اللہ رشتے کرائے جاتے ہیں ‘‘ مگر وہاں جانے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کو حقیقت وہاں جاکر ہی معلوم ہوتی ہے لڑکیوں کے مناسب رشتے نہ ملنے کی وجہ سے بھی اکثر والدین میرج بیوروز کا رخ کرتے ہیں اور وہاں رجسٹریشن فیس ادا کر کے اپنی لڑکیوں کے نام لکھواتے ہیں اس کے بعد ان کے گھر شادی کے خواہشمند مردوں کی لائین لگ جاتی ہے مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں بمشکل ایک فیصد ہی کوئی جاذب نظر اور مناسب رشتہ ملتا ہے ورنہ ز یادہ تر ایڑھے ٹیڑھے ، عمر رسیدہ دوسری شادی کے خواہشمند ، انڈولے ، بے روزگار قسم کے شادی کے خواہش مند ہی ملتے ہیں ۔ اس طرح بیچاری لڑکی بھی عجیب تماشا بن جاتی ہے ایسا لگتا ہے کہ اس نے بحیثیت لڑکی پیدا ہو کر کوئی بہت بڑا جرم کردیا ہے ۔ اسے مناسب رشتہ کیلئے بھی بھیڑ بکریوں کی طرح پرکھا جاتا ہے ۔ تمام رشتہ داروں کے سامنے تماشا بناکر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس مشکل دور میں آج بھی میرج بیوروز اور بواؤں کے ذریعے کرائے جانے والے رشتوں سے زیادہ پائیدار اور مضبوط رشتہ اپنے گھر کے بزرگوں کے ذریعے کرائے گئے رشتہ ہوتے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ بزرگوں میں اللہ تعالی نے ایسی صلاحیت رکھی ہے کہ وہ اپنے خاندان کی کسی بھی لڑکی یا لڑکے کی شادی کے حوالے سے نوے فیصد درست فیصلے کرتے ہیں دس فیصد شائد ان کے کئے ہوئے رشتوں میں کوئی مشکل دکھائی دی ہو ورنہ ان کے کرائے گئے بیشتر رشتے ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔ میری تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ مناسب رشتوں کی تلاش میں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو خدارا تماشہ نہ بنائیں خاص طور پر لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک رشتہ داری کرتے وقت کیا جاتا ہے وہ اب ختم کردینا چاہئے وہ کوئی بھیڑ بکری نہیں کہ قربانی کیلئے اس کی اچھی طرح سے چیکنگ کی جائے ورنہ قربانی نہیں ہوگی ۔ پلیز انہیں دنیا کی حسین ترین مخلوق کے طور پر تسلیم کیا جائے ۔