وہی کارواں، وہی راستے، وہی زندگی، وہی مرحلے
مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں
سماجوادی پارٹی سربراہ اکھیلیش یادو بھی اس بار اترپردیش اسمبلی انتخاب لڑنے والے ہیں۔ حالانکہ ابتداء میں اکھیلیش نے اعلان کردیا تھا کہ وہ اسمبلی انتخاب نہیں لڑیں گے تاہم بعد میں ان کی پارٹی نے وضاحت کردی تھی کہ اس تعل سے فیصلہ پارٹی کرے گی ۔چند دن قبل سے اکھیلیش یہ کہتے رہے تھے کہ اگر ان کی پارٹی چاہے تو وہ اسمبلی انتخاب لڑیں گے ۔ آج سماجوادی پارٹی سے یہ تقریبا توثیق ہوچکی ہے کہ اکھیلیش یادو بھی اسمبلی انتخاب لڑیں گے ۔ جس اعتبار سے اترپردیش میں انتخابی سیاست گرم ہو رہی ہے اور لمحہ لمحہ جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ لمحہ آخر میں اکھیلیش یادو کو بھی اسمبلی انتخاب لڑنے کیلئے حامی بھرنی پڑے گی ۔ حالانکہ اکھیلیش یادو اعظم گڑھ سے لوک سبھا کے رکن ہیں ۔ انہوں نے اعظم گڑھ کے عوام سے مشاورت کے بعد اسمبلی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور آج ان کے ایک چچا رام گوپال یادو نے توثیق کردی کہ اکھیلیش یادو مین پوری ضلع میںکڑہال حلقہ سے اسمبلی کا انتخاب لڑیں گے ۔ یہ حلقہ ملائم سنگھ یادو کے خاندان کا گڑھ رہا ہے ۔ 1993 کے بعد مسلسل یہاں سے سماجوادی پارٹی کو کامیابی ملتی رہی ہے تاہم صرف 2002 میں ایک بار بی جے پی کو کامیابی ملی تھی تاہم بعد میں سماجوادی پارٹی نے دوبارہ اس پر قبضہ کرلیا ہے ۔ اکھیلیش یادو ریاست میں سماجوادی پارٹی کے وزارت اعلی کا چہرہ ہیں۔ وہ ریاست کے چیف منسٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں سماجوادی پارٹی انتخابات میں مقابلہ کر رہی ہے ۔ وہ کئی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرتے ہوئے مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کئی علاقائی اور چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیا ہے ۔ کئی ذات پات کے فارمولے پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے یہ اتحاد کیا ہے اور بی جے پی کے بھی اہم پسماندہ طبقات کے قائدین کو وہ اپنی صفوں میں شامل کرچکے ہیں۔ ایسے میں کچھ گوشوں سے ان کے انتخاب نہ لڑنے کے فیصلے پر تنقید کی جا رہی تھی اور اس سے پارٹی کے امکانات بھی متاثر ہوسکتے تھے ۔ ان ہی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اکھیلیش بھی اسمبلی انتخابات کیلئے تیار ہوچکے ہیں۔
اکھیلیش یادو رکن پارلیمنٹ ہیں اور ریاست کے چیف منسٹر رہتے ہوئے انہوں نے کونسل کی رکنیت حاصل کی تھی ۔ موجودہ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ بھی پانچ مرتبہ گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بھی چیف منسٹر بننے کے بعد کونسل کی رکنیت قبول کی تھی ۔ اس بار آدتیہ ناتھ بھی اسمبلی کی رکنیت کیلئے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ کل ہی کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اشارہ دیا تھا کہ وہ بھی اسمبلی کیلئے مقابلہ کرسکتی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اترپردیش اسمبلی انتخابات کو کس حد تک اہمیت دے رہی ہیں۔ ہر جماعت کے تقریبا بڑے قائدین یا چیف منسٹر کے چہرے اسمبلی انتخاب کیلئے میدان میں اتر رہے ہیں۔ ان سب کا تاثر یہی ہے کہ اسمبلی کیلئے ان کے مقابلہ کرنے سے پارٹی کے دوسرے امیدواروں کے امکانات میں بہتری آئے گی ۔ ریاست کے ووٹرس پر اس کا مثبت اثر ہوگا اور یہی وجہ ہے وہ انتخابی میدان میں کودنے کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ اس طرح اب تک تین بڑی جماعتوں کے بڑے قائدین آدتیہ ناتھ ‘ اکھیلیش یادو اور پرینکا گاندھی کے اسمبلی انتخاب لڑنے کے امکانات روشن ہوچکے ہیں حالانکہ ابھی پرینکا کے مقابلہ کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے ۔ ریاست کے عوام کو سبھی جماعتیں اپنے اپنے قائدین کے چہروں سے راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور انہیںامید ہے کہ عوام ان قائدین کو دیکھتے ہوئے دوسرے امیدواروں کے حق میں بھی اپنے ووٹ کا استعمال کرنے آگے آئیں گے ۔
ریاست کے عوام کو چہروں سے راغب کرنے کی کوششوں سے قطع نظر انہیںسیاسی جماعتوں کی سنجیدگی کو پرکھنے کی ضرورت ہے ۔سابق میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کا جائزہ لینا چاہئے ۔ آئندہ کیلئے جو منصوبے اور پروبرامس عوام میں پیش کئے جا رہے ہیں ان کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ صرف چند قائدین کے چہروں کو دیکھنے کی بجائے کارکردگی کو بنیاد بناتے ہوئے اگر و وٹرس اپنے ووٹ کا استعمال کریں تو یہ ان کے حق میں بھی بہتر ہوگا اور ریاست کی ترقی کیلئے بھی پروگرامس کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ تاہم اکھیلیش یادو کا انتخاب لڑنا یہ اشارہ ہے کہ سماجوادی پارٹی اس بار اقتدار حاصل کرنے کی اپنی کوششوں کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتی ہے اور وہ اترپردیش کے عوام کے نام ایک اہم اور مثبت پیام دیتے ہوئے ان کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔
تلنگانہ میں وبائی امراض
ایک ایسے وقت میں جبکہ سارے ملک میں کورونا کی تیسری لہر بتدریج شدت اختیار کرتی جار ہی ہے اور تلنگانہ میں بھی اس کا اثر زیادہ ہوتا جا رہا ہے دیگر وبائی امراض میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ ساری ریاست میں سردی ‘ بخار ‘ نزلہ ‘ کھانسی وغیرہ کے مریضوں کی بہتات ہوگئی ہے ۔ سرکاری اور خانگی تمام دواخانے ایسے مریضوںسے بھرے پڑے ہیں۔ لوگ کورونا کی تیسری لہر کو دیکھتے ہوئے اپنے معائنے کروانے سے گریز کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ گھریلو ٹوٹکوں یا معمولی و روایتی علاج پر اکتفاء کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے حالانکہ عوام کو مسلسل مشورہد یا جا رہا ہے کہ وہ معمول کے وبائی امراض کے تعلق سے بھی لاپرواہی نہ برتیں بلکہ اپنے معائنے کروائیں اور علاج پر توجہ دیں لیکن معائنوں میں عوام کی اکثریت پس و پیش کا شکارہے ۔ ہرگذرتے دن کے ساتھ جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہیں وبائی امراض بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ حکومت کورونا پر قابو پانے کے اقدامات میں مصروف ہے اور اب گھر گھر فیور سروے کرتے ہوئے ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں ۔ تاہم حکومت کو وبائی امراض کی روک تھام پر بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ وبائی امراض کسی بھی وقت کورونا کی تیسری لہر کو بہت زیادہ شدید کرسکتے ہیں۔ دواخانوں میں علاج و معالجہ کی سہولیات میں اضافہ کرنا ہوگا اور صحت و صفائی کے اقدامات کیلئے خاص مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ وبائی امراض کی روک تھام کے جو محکمہ جات ذمہ دار ہیں انہیں اس تعلق سے بطور خاص توجہ کرتے ہوئے عوام کو ان امراض سے بچانے آگے آنا چاہئے ۔
