اکھیلیش کی اتحادی سیاست

   

اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کیلئے اب جبکہ محض دو ماہ کا وقت رہ گیا ہے اور شائد آئندہ ایک مہینے میں انتخابات کیلئے اعلامیہ بھی جاری ہوسکتا ہے سماجوادی پارٹی کے صدر و سابق چیف منسٹر اکھیلیش سنگھ یادو اپنی پارٹی کے امکانات کو ریاست کی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے مزید مستحکم کرنے میں جٹ گئے ہیں ۔وہ انتخابی جلسوںاور ریلیوں سے بھی خطاب کر رہے ہیں۔ عوام کے درمیان بھی پہونچ رہے ہیں۔ بی جے پی کی تشہیر کا بھی مسلسل جواب دیتے جا رہے ہیں اور پھر ریاستی سطح پر ایک مضبوط اور طاقتور اتحاد تشکیل دینے کیلئے بھی تقریبا تمام علاقائی جماعتوںکو اپنے ساتھ ملاتے جا رہے ہیں۔ اکھیلیش کی یہ اتحادی سیاست بی جے پی کیلئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ اکھیلیش یادو نے مغربی اترپردیش میںزیادہ اثر رکھنے والی راشٹریہ لوک دل ( آر ایل ڈی ) سے اتحاد کرلیا ہے ۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی کے تعلق سے بھی نرم رویہ کا اظہار کیا ہے ۔ وہ سوہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے اوم پرکاش راج بھر سے اتحاد کرچکے ہیں۔ دوسری کئی علاقائی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا چکے ہیں اور آج انہوں نے سماجوادی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے علیحدہ جماعت قائم کرنے والے اپنے چچا شیوپال یادو سے بھی اتحاد کرلیا ہے ۔ اکھیلیش یادو ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ اپوزیشن کے ووٹوں کی تقسیم کو روکنے کیلئے کام کر رہے ہیں اور بی جے پی مسلسل انہیں نشانہ بناتے ہوئے اپنے بوکھلاہٹ اور پریشانیوں کا اظہار کر رہی ہے ۔ بی جے پی کے تمام قائدین اور خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی تقریبا ہر موقع پر اکھیلیش کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ ریاست کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں اور دوسرے قائدین کی جانب سے بھی جو رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے وہ در اصل پارٹی اور اس کے قائدین کی بے چینی کے اظہار کا ہی مظہر کہا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی اپنے مخالفین کے ووٹ تقسیم کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی پالیسی میں یقین رکھتی ہے اور اکھیلیش یادو اس کا توڑ پیش کرتے ہوئے اپوزیشن کے ووٹوںکو مجتمع کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔
اکھیلیش یادو نے 2017 میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور یہ تجربہ دونوں ہی جماعتوں کیلئے موثر اور کارگر ثابت نہیں ہوا تھا ۔ دونوں جماعتوں کا مظاہرہ ناقص رہا تھا اور انہیںنقصان ہوا تھا ۔ اکھیلیش نے پھر بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ بھی اتحاد کیا لیکن لوک سبھا انتخابات میں یہ تجربہ بھی ناکام ہوگیا اور یہ الزامات عائد کئے گئے کہ بہوجن سماج پارٹی نے اپنے ووٹ خاموشی کے ساتھ بی جے پی کو منتقل کروانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ ان تجربات کے بعد اب اکھیلیش یادو چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے کام کرنے کی حکمت عملی اختیار کرچکے ہیں۔ جہاں تک چھوٹی جماعتوں کا سوال ہے وہ اپنے اپنے مقامات پر اچھا خاصا اثر رکھتی ہیں۔ ان کے اثر کو قومی اور ریاستی سطح کی جماعتیں بھی زائل نہیں کرپاتیں اور یہ چیدہ چیدہ کامیابیاں حاصل کرتی ہیں۔ اکھیلیش یادو ان ہی چھوٹی جماعتوں کو متحد کرتے ہوئے اپنے اور ان جماعتوں کے ووٹوں کی تقسیم کو روکنا چاہتے ہیں اور یہ بی جے پی کیلئے تشویش کی بات کہی جاسکتی ہے ۔ بی جے پی کا جو وطیرہ رہا ہے وہ اپوزیشن کے ووٹوں کو تقسیم کرتے ہوئے اپنے ووٹ مجتمع کرتی رہی ہے ۔ اس کیلئے کچھ ایجنٹوں کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے اور انہیں بھی اس کے ثمرات پہونچائے جاتے ہیں لیکن اکھیلیش یادو اس بار بی جے پی کی حکمت عملی کو زائل کرنا چاہتے ہیںاور انہیں امید ہے کہ انتخابات میں یہ حکمت عملی ان کی پارٹی کیلئے کارگر ثابت ہوسکتی ہے اور اسی کے ذریعہ بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے ۔
شیوپال سنگھ یادو کی علیحدگی کے بعدسے سماجوادی پارٹی کا جو کٹر ووٹ بینک ہے وہ بھی درہم برہم ہوگیا تھا ۔ اب اس اتحاد کے ذریعہ اس ووٹ بینک کو بھی مجتمع کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ اکھیلیش کی پالیسی کے اثرات ابھی سے دکھائی بھی دے رہے ہیں۔ اکھیلیش کے جلسوں اور ریلیوں میں عوام کا ہجوم امڈ کر آ رہا ہے اور ریاست کی تبدیلی کی ایک لہر سے پیدا ہونے لگی ہے ۔ اگر اس لہر کو برقرار رکھا جاتا ہے تو پھر بی جے پی کی شاطرانہ چالوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ قومی اورریاستی سطح کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے تجربات کی ناکامی کے بعد چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کی حکمت عملی اکھیلیش کیلئے فائدہ ہوگی یا نہیں۔