اگر۔ مسلمانوں کو ”گائے ذبیحہ“ میں ملوث کرنے پر 4ہندوتواورکرس ہوئے گرفتار

,

   

گرفتار کئے جانے والوں میں اے بی ایچ ایم ورکرس سنجے جاٹ ہے‘ جو مذکورہ تنظیم کے ترجمان ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ ماضی میں فرقہ وارنہ نفرت پھیلانے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے والے بیانات کے سبب اس نے سرخیاں بٹوری تھیں۔


ایک پولیس تحقیقات کے بعد اس بات کا پتہ چلا کہ مذکورہ مسلم نوجوانوں کو رام نومی کے موقع پر گائے ذبیحہ کے معاملے جھوٹے طور پر ملزم بنایاگیاتھا‘ اگرہ پولیس نے اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا (اے بی ایچ ایم) کے چار ورکرس کو جھوٹی شکایت درج کرانے پر گرفتار کرلیاہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان چار غلط طریقے سے پھنسائے گئے نوجوانوں کے حریفوں کے ساتھ ملکر اے بی ایچ ایم ممبرس نے یہ سارا منصوبہ بنایاتاکہ اپنامقام بناسکیں۔گرفتار کئے جانے والوں میں اے بی ایچ ایم ورکرس سنجے جاٹ ہے‘ جو مذکورہ تنظیم کے ترجمان ہونے کا دعوی کرتا ہے۔

ماضی میں فرقہ وارنہ نفرت پھیلانے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے والے بیانات کے سبب اس نے سرخیاں بٹوری تھیں۔مذکورہ اے بی ایچ ایم کارکنوں پر ائی پی سی کی دفعہ 120بی (فوجداری سازش) کے تحت مقدمہ درج کیاگیاہے۔

ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (اے سی پی) آر کے سنگھ نے کہاکہ ”چار اے بی ایچ ایم کارکنان اور دیگر ذمہ دران جیتندر کشواہا‘ سنجے جاٹ‘ برجیش بھدوریا‘ اور سوربھ شرما کو رام نومی کے حساس موقع پر ایک سازش انجام دینے پر گرفتار کرلیاگیا ہے“۔

اے بی ایچ ایم ممبرس کے علاوہ اتھارٹیزچار بے قصور نوجوانوں کے مخالفین کو گرفتارکرلیا جو اس منصونہ میں سرگرم حصہ دار تھے۔اے سی پی سنگھ نے کہاکہ”سات لوگوں کو اب تک اس کیس میں گرفتار کیاگیاہے۔

جس میں سے ایک نے خود سپردگی اختیار کی ہے“۔ اے بی ایچ ایم عہدیدار جیتندر کشواہا نے 30مارچ کو اگرہ کے اعتماد دولہ پولیس اسٹیشن میں چار مسلمان نابالغوں کے خلاف ایک ایف ائی آر درج کراتے ہوئے کہاکہ تھا کہ انہوں نے رام نومی کے دن ایک گائے ذبح کی ہے۔

جیتند ر نے کہاکہ وہ اور اے بی ایچ ایم میں اس کے دوسرے ساتھی موقع پر پہنچے‘ مگر ملزمیں وہا ں سے فرار ہوگئے تھے۔

سی سی ٹی وی شواہد سے تاہم یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ گائے ذبیحہ کے کم عمر ملزمین اس دن جائے وقوع پر موجود نہیں تھے اور دشمنی میں فونی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ شانو (عرف للی)‘ عمران قراشی‘ چار اے بی ایچ ایم ممبرس اوردیگر تین نے مل کر اس منصوبے کو انجام دیاتھا۔

بتایاجارہا ہے کہ شانو اور عمران دونوں کا مجرمانہ پس منظر ہے۔ مختلف معاملات میں نصف درج سے مقدمات کا انہیں سامنا ہے۔

ماضی میں ان چار کم عمر پھنسائے گئے ملزمین میں سے ایک ناکیم نے شانو او رعمران کے خلاف ایک شکایت درج کرائی تھی۔

ناکیم اورایک اگرہ نگر نگم ملازم کی شکایت پر دونوں کوگرفتار کرلیاگیاتھا۔ پولیس کا کہنا ہیے کہ یہی وجہہ سے تھی کہ انہوں نے اے بی ایچ ایم کے لوگوں کے ساتھ ملک کر فرضی مقدمہ میں چاروں کا پھنسایاتھا