نئی دہلی: تھوک قیمت انڈیکس پر مبنی افراط زر اس سال جولائی 2022 میں 13.93 فیصد سے اگست میں کم ہو کر 12.41 فیصد پر آ گیا ہے ۔ جولائی کے مقابلے اگست میں اس میں 0.46 فیصد کمی آئی ہے ۔آج جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ہول سیل مہنگائی زیادہ رہی جس کی وجہ معدنی تیل، کھانے پینے کی اشیاء، خام تیل اور قدرتی گیس، بنیادی دھاتوں، کیمیکل مصنوعات، بجلی، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ ہے ۔اگست میں کچھ اعتدال کا مظاہرہ کرنے کے باوجود یہ پچھلے 17 مہینوں سے دوہرے ہندسے میں ہے ۔ جولائی 2022 کے مقابلے اگست میں بنیادی اشیاء کی تھوک مہنگائی 15.04 فیصد سے کم ہو کر 14.93 فیصد رہ گئی۔ اسی طرح ایندھن اور بجلی کا انڈیکس بھی 43.75 فیصد گر کر 33.67 فیصد رہا۔جولائی کے مقابلے اگست میں تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی اور 8.16 فیصد کے مقابلے میں 7.51 فیصد تک گر گئی۔ تاہم، اگست میں فوڈ انڈیکس جولائی میں 9.41 فیصد سے بڑھ کر 9.93 فیصد ہو گیا۔اس سال جون میں تھوک مہنگائی 16.23 فیصد رہی تھی۔