ہماچل پردیش میں مسلم تنظیموں کا شدید احتجاج
دہرہ دون 20 جون ( ایجنسیز ) ہماچل پردیش میں قرآنِ مجید کے خلاف مبینہ گستاخانہ اور توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد مسلم تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مختلف مسلم جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے واقعہ کی مذمت کرکے حکومت و پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے قرآنِ مجید کے بارے میں نازیبا اور اشتعال انگیز تبصرہ کیا گیا، جس کے بعد معاملہ تیزی سے پھیل گیا اور مسلم برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقدس مذہبی کتاب کی توہین کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی اور اس طرح کی حرکتیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔مسلم نمائندوں نے انتظامیہ کو ایک یادداشت بھی پیش کی جس میں کہا گیا کہ گستاخانہ مواد پوسٹ کرنے والے افراد کی شناخت کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو ریاست بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کے احترام اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہیہے ۔ پولیس حکام نے معاملے کا نوٹ لے کر کہا کہ پوسٹ کی جانچ کی جا رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔