اک چنگاری آگ لگاجاتی ہے بن میں اور کبھی
ایک کرن سے ظلمت کو چھٹ جانا پڑتا ہے
مرکزی حکومت کی معلنہ اگنی پتھ اسکیم نے ملک کے لاکھوں نوجوانوں کو مایوس کردیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں نوجوان سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہے ہیں اور سرکاری املاک کو نقصان پہونچانے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ وہ مرکزی حکومت کے کسی استدلال کو قبول کرنے تیار نہیں ہیںا ور ان کا کہنا ہے کہ جس طرح روایتی بھرتیاں اور ریٹائرمنٹ ہوا کرتا تھا اسی طرح سے فوج میں بھرتی کی جائے ۔ صرف چار برس کیلئے اس طرح کے تقررات ناقابل فہم ہیں اور یہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ ہے ۔ مرکزی اسکیم کے جہاں اثرات نوجوانوں پر دیکھنے میں آئے ہیں وہیں ایسا لگتا ہے کہ اس کے سیاسی اثرات بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ بہار میں برسر اقتدار اتحاد میں شامل دونوں بڑی جماعتوں بی جے پی اور جنتادل یونائیٹیڈ کے مابین اس احتجاج میں ہونے والے تشدد پر لفظی تکرار شروع ہوگئی ہے ۔ بی جے پی بہار حکومت میں شریک ہے ۔ اس کے ڈپٹی چیف منسٹر اور دوسرے وزراء بھی موجود ہیں اس کے باوجود بہار میں ہونے والے تشدد کیلئے بی جے پی کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مرکز میں اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کی جانب سے ریاست میں متوازی اقدامات بھی شروع کردئے گئے ہیں۔ حالانکہ ریاستی حکومت میں شامل وزراء اور ذمہ داران کو ریاست کی ایجنسیوں کی جانب سے سکیوریٹی فراہم کی جاتی ہے لیکن اگنی پتھ اسکیم پر احتجاج کے دوران بی جے پی کے دفاتر اور مکانات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مرکزی حکومت نے بہار کے تقریبا 10 ارکان اسمبلی کو اپنی جانب سے سکیوریٹی فراہم کردی ہے جس میں ڈپٹی چیف منسٹر بھی شامل ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی سربراہ نے تشدد پر قابو پانے کیلئے خاطر خواہ اور موثر اقدامات نہ کرنے کا چیف منسٹر نتیش کمار کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے ۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی کی مکمل اقتدار والی حکومت ہے وہاں بھی تشدد ہو رہا ہے اور آدتیہ ناتھ کی حکومت بھی احتجاجیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کی جانب سے نتیش کمار پرا لزام عائد کرتے ہوئے بھڑاس نکالی جا رہی ہے ۔ یہ دونوں اتحادی جماعتوں کیلئے اچھی علامت نہیں ہے ۔
بی جے پی چاہتی ہے کہ نتیش کمار حکومت کی جانب سے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور تشدد پر قابو پانے طاقت کا استعمال کیا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی جتنی بھی ریاستوں میں یہ احتجاج ہو رہا ہے وہاں کوئی بھی ریاستی حکومت کسی طرح کی سخت کارروائی کرنا نہیں چاہتی کیونکہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے ۔ یہی نوجوان سیاسی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے خلاف ریاستی حکومتیں کارروائی کرتے ہوئے خطرہ مول لینا نہیں چاہتیں۔ یہی صورتحال بی جے پی کی بھی ہے ۔ نوجوانوں کی اکثریت بی جے پی کا ووٹ بینک بن کر رہ گئی تھی ۔ نوجوان اب اپنے روزگار کے مسئلہ پر بی جے پی سے ناراض ہوگئے ہیں۔ حالانکہ حکومت نے اس اسکیم کا اعلان کیا ہے لیکن بہار میں خاص بات یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ بی جے پی قائدین کے مکانات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ان کی کار کو نذر آتش کیا گیا ہے اور بی جے پی کے کچھ دفاتر میںبھی توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگادی گئی تھی ۔ جو احتجاج کیا جا رہا ہے اس میں دیگر ریاستوں میں سرکاری املاک کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بہار میں بھی ایسا ہوا ہے لیکن یہاں زیادہ غم و غصہ بی جے پی پر نکالا جا رہا ہے ۔ اسی لئے پارٹی کے ارکان اسمبلی سے بھی ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے اور پارٹی کے دفاتر کو بھی آگ لگائی گئی ہے ۔ بی جے پی اسی ناراضگی سے خود کو بچاتے ہوئے اس کا رخ جنتادل یو کی سمت موڑنا چاہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نتیش کمار حکومت پر احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے ۔
بی جے پی کی اترپردیش حکومت کی جانب سے اب تک احتجاجیوں کے خلاف کوئی بڑی یا سخت کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ صرف احتجاجیوں کو درہم برہم کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے کیونکہ بی جے پی کو نوجوانوں کی سیاسی طاقت کا اندازہ ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات کیلئے اب زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے ۔ ایسے میں بی جے پی نہیں چاہتی کہ اسے نوجوانوں کی ناراضگی اور برہمی کا سامنا کرنا پڑے ۔ بہار میں بی جے پی قائدین جس طرح نتیش کمار کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے ان کی بوکھلاہٹ کا پتہ چلتا ہے کیونکہ نوجوانوں کی برہمی کا شکار انہیں ہی ہونا پڑ رہا ہے ۔ نتیش کمار کا جہاں تک سوال ہے وہ ایک گھاگھ اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور وہ سیاسی اعتبار سے نقصان والا کوئی فیصلہ کرنا نہیں چاہتے ۔
اپوزیشن کو صدارتی امیدوار دستیاب نہیں
ملک کے آئندہ صدر جمہوریہ کا انتخاب بھی یکطرفہ ہوسکتا ہے کیونکہ اب تک بھی اپوزیشن جماعتوں کو کوئی امیدوار دستیاب نہیں ہوسکا ہے یا پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جس کسی کو اپوزیشن کی جانب سے امیدوار بنانے کی پیشکش کی جا رہی ہے انہوں نے اس کو قبول کرنے سے گریز کیا ہے ۔ سب سے پہلے این سی پی سربراہ شرد پوار کو اپوزیشن نے امیدوار بنانے کی پیشکش کی تھی تاہم شرد پوار نے ابتدائی مراحل ہی میں دعویداری قبول کرنے سے انکار کردیا کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اپوزیشن کے پاس درکار ارکان کی تعداد موجود نہیں ہے اور جتنی بھی اپوزیشن یا مخالف بی جے پی جماعتیں ہیں وہ اس مسئلہ پر متحد نہیں ہوسکی ہیں۔ شرد پوار کے بعد نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن فاروق عبداللہ نے بھی یہ پیشکش قبول نہیں کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جموںو کشمیر کو ان کی ابھی ضرورت ہے ۔ در اصل مسئلہ درکار عددی طاقت ہی کا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں چاہتی ضرور ہیں کہ بی جے پی کے خلاف مقابلہ آرائی کی جائے لیکن وہ آپسی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے کسی ایک نکتہ یا ایجنڈہ پر متحد ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ ہر جماعت اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن کی کوئی مشترکہ حکمت عملی نہیں ہے ۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوگا اور آئندہ صدر کے انتخاب میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ۔ اپوزیشن جماعتوں کو اس صورتحال میں اپنے اپنے موقف کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اپوزیشن اتحاد کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی طئے کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔
