گذشتہ مہینے مرکزی حکومت کی جانب سے مسلح افواج میںبھرتیوں کے سلسلہ میں اگنی پتھ اسکیم کا اعلان کیا گیا ۔ اس اسکیم کے تحت نوجوانوں کو چار سال کیلئے مسلح افواج میں ملازمت فراہم کرنے کی تجویز تھی ۔ ایک طرح سے مستقل بھرتیوں کا طریقہ کار ہی ختم کردیا گیا ہے اور جو نوجوان کئی برسوں سے ان بھرتیوں کیلئے تیاری کر رہے تھے انہیں صرف چار سال کیلئے ملازمت دینے کی تجویز تھی جس کے بعد انہیں لازمی سبکدوش کردیا جائیگا ۔ اس اسکیم کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا ۔ کئی ریاستوں میں یہ احتجاج پھیل گیا تھا اور نوجوانوں نے مرکزی حکومت کی اسکیم پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ کچھ نوجوانوں نے پرتشدد احتجاج بھی کیا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس اسکیم سے دستبرداری اختیار کرلی جائے اور سابقہ طریقہ کار کے مطابق ہی بھرتیاں کی جائیں۔ حکومت نے اپنے فیصلہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ابتداء میں 17 تا 21 سال عمر والے نوجوانوں سے درخواستیں طلب کی تھیں لیکن بعد میں عمر کی حد میں توسیع کرتے ہوئے 23 سال عمر والے نوجوانوں سے بھی درخواستیں طلب کی تھیں۔ حالانکہ لاکھوں افراد نے اس اسکیم کے تحت درخواستیں داخل کی ہیں لیکن بظاہر نوجوانوں کی اکثریت نے اس اسکیم کے خلاف احتجاج کیا تھا ۔ حکومت نے اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی تشکیل دی تاکہ اس کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا جاسکے ۔ تاہم اب حکومت نے پارلیمنٹ یا پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی کسی میں بھی اس اسکیم پر تبادلہ خیال سے گریز ہی کیا ہوا ہے ۔ پارلیمنٹ اجلاس میں بھی کچھ ارکان کی جانب سے اس مسئلہ پر مباحث شروع کرنے کی کوشش کی گئی لیکن حکومت نے اس کو قبول نہیں کیا ۔ اسی طرح دفاع سے متعلق پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اپوزیشن کے ارکان نے اس پر مباحث کی کوشش کی لیکن کمیٹی کے صدر نشین نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ صدر نشین کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔ تاہم حکومت پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کرنے اور اپوزیشن ارکان کے اعتراضات کی سماعت کرنے تیار نہیں ہے ۔
دفاع سے متعلق پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اگر مسلح افواج میں بھرتیوں کی اسکیم کے تعلق سے تبادلہ خیال نہیں کیا جاسکتا ہے تو پھر اس کمیٹی کا وجود ہی بے وجہ ہو کر رہ جائے گا ۔ اس طرح کی کمیٹیاں متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کرنے اور اس کی تفصیلات کا جائزہ لینے کیلئے ہی تشکیل دی جاتی ہیں۔ تاہم مرکزی حکومت ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کی تجاویز کو کسی بھی فورم میں مباحث کا موضوع بننے کی اجازت نہیں دینا چاہتی۔ پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جانا چاہئے تھا ۔ حکومت اکثر و بیشتر مسائل پر کہتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام اہمیت کے حامل مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے تیار ہے ۔ تاہم جب پارلیمنٹ اجلاس شروع ہوتا ہے تو حکومت عددی طاقت کے بل پر اس طرح کی کوششوں کو ناکام بنادیتی ہے اور اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے ۔ نہ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر کسی طرح کے مباحث کئے گئے اور نہ ہی دفاع سے متعلق پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی میں اپوزیشن کے ارکان کو کسی طرح کے اظہار خیال کا موقع دیا گیا ۔ یہ در اصل جمہوری عمل کا مضحکہ بنانے کے مترادف ہے اور متعلقہ کمیٹی کے وجود پر ہی سوال پیدا کرتا ہے ۔ پارلیمانی جمہوریت میں تبادلہ خیال اور اختلاف رائے کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔ اپوزیشن ارکان کے اعتراضات اور تشویش کا جواب دینا حکومت کا فریضہ ہے لیکن موجودہ حکومت اس طریقہ کار اور روایت سے مسلسل انحراف کرتی جا رہی ہے ۔
ہندوستان جیسی ایک وسیع اور موثر جمہوریت میں ضروری ہے کہ حکومت اقتدار اور اکثریت کے زعم کا شکار ہونے کی بجائے جمہوری روایات کی پاسداری کرے ۔ اپوزیشن کی رائے کا احترام کیا جائے ۔ ان کی تجاویز پر غور کیا جائے ۔ ممکنہ حد تک ان کی تجاویز کو قبول کرتے ہوئے قانون سازی کا حصہ بنایا جائے ۔ اسی طرح سے ملک کی جمہوریت کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔ محض اختلافات کی وجہ سے جمہوری اقدار اور اصولوں کی پامالی کرنا ملک کی جمہوریت کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے اور موجودہ حکومت کو اپنی روش میں تبدیلی لاتے ہوئے جمہوریت کے استحکام کی مثال قائم کرنے آگے آنا چاہئے ۔
