اگنی پتھ تشدد ‘ کیا اب بھی بلڈوزر چلے گا؟

   

Ferty9 Clinic

مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف ملک بھر میں جو احتجاج کیا جا رہا ہے اس کے نتیجہ میں سینکڑوں کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے ۔ ملک کی ایک نہیں بلکہ کئی ریاستوں میں نوجوان مرکز کی اس اسکیم کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ان کا احتجاج پرتشدد موڑ اختیار کر گیا ہے ۔ کروڑہا روپئے مالیتی ٹرینوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے اور ریلوے اسٹیشنوں پر اسٹالس وغیرہ کو تباہ کیا گیا ہے ۔ یہ ملک کے بیروزگار نوجوانوں کا ایک فطری احتجاج ہے کیونکہ مرکز کی نریندر مودی حکومت ان نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے اور انہیں عارضی طور پر روزگار کا جھانسہ دیا جا رہا ہے ۔ تاہم اس احتجاج کو بھاری نقصانات ہوئے ہیں ان کی وجہ سے ایک سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا مرکزی حکومت ان توڑ پھوڑ کرنے والے احتجاجیوں سے بھی ہرجانہ کی رقم وصول کرے گی ؟ ۔ اترپردیش میں جہاں بی جے پی کی آدتیہ ناتھ حکومت ہے مسلمانوں کو ہر احتجاج کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے ۔ مسلمان جو انتہائی اہم ترین مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے ۔ ان کے خلاف سنگین مقدمات درج کئے جا رہے ہیں ۔ انہیں باضابطہ نوٹسیں جاری کرتے ہوئے ان سے احتجاج میں ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ یا معاوضہ وصول کیا جا رہا ہے ۔ ان کے مکانات منہدم کئے جا رہے ہیں۔ ان کی دوکانوں پر بھی بلڈوزر چلایا جا رہا ہے ۔ ایسا محض اس لئے کیا گیا کیونکہ یہ احتجاج کرنے والے مسلمان تھے اور بی جے پی کی تقریبا تمام ریاستی حکومتیں اقلیتوں کے خلاف متعصب ذہنیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ زر خرید ٹی وی چینلوں کے تلوے چاٹو اینکرس کی جانب سے بھی انہیں بدنام اور رسواء کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ اب جبکہ ملک کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوان اپنے روزگار کیلئے تشدد پر اتر آئے ہیں اور اپنی ناراضگی اور بے چینی کا اظہار کر رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا سینکڑوں کروڑ روپئے کے نقصانات کی پابجائی کس سے ہوگی ؟ ۔ کیا ان ہزاروں نوجوانوں کو نوٹس جاری کی جائے گی جنہوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا ؟ ۔ کیا ان سے ہرجانہ وصول کیا جائیگا ۔ ؟ ۔
اترپردیش ‘ دہلی ‘ راجستھان وغیرہ میں جن مسلمانوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا ان کے مکانات اور دوکانات کو بلڈوزروں کی مدد سے مسمار کردیا گیا ۔ یہ بچکانہ عذر پیش کیا گیا کہ ان کے مکانات اور دوکانات غیر قانونی تھے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہزاروں افراد جنہوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا ان میں کسی ایک کا مکان بھی غیر قانونی نہیں ہے ؟ ۔ اگر ہے تو کیا مرکزی حکومت ان کے مکانات پر بھی بلڈوزر چلائے گی ؟ ۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے خاموش نہیں بیٹھ سکتی اور نہ بری الذمہ ہوسکتی ہے کیونکہ جو نقصان ہوا ہے وہ مرکزی حکومت کی املاک کا ہوا ہے ۔ ٹرینوں کے انجن جلا دئے گئے اور بوگیاں بھی نذر آتش کردی گئیں ۔ یہ سرکاری نقصان ہے ۔ اس کے علاوہ پلیٹ فارمس پرجو اسٹالس تھے وہ عوام کے تھے ۔ کیا ان تمام کے نقصانات کا حکومت پابجائی کریگی ؟ ۔ اگر نہیں تو پھر حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ ایک ہی پارٹی کی الگ الگ طبقات کے معاملے میں الگ الگ پالیسی کیسے ہوسکتی ہے ؟ ۔ اترپردیش میں تو کچھ احتجاجیوں کے مکانات منہدم کرنے کے علاوہ ان کے مکانات کو فروخت کرتے ہوئے بھی معاوضہ وصول کیا گیا ۔ اگر اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت ایسا کرسکتی ہے تو پھر مرکز کی بی جے پی حکومت ایسا کیوں نہیں کرسکتی ؟ ۔ حکومت کیلئے اپنے دوہرے معیارات سے گریز کرتے ہوئے کیا اب بھی بلڈوزر چلانا اور معاوضہ وصول کرنا ضروری نہیں ہے ؟ ۔
حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام کا احتجاج ان کے جذبات کا عکاس ہوتا ہے ۔ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج ہر ہندوستانی کا جمہوری حق ہے ۔ تاہم اس میں تشدد نہیں ہونا چاہئے ۔ دستور اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے احتجاج کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کو اس معاملے میں دوہرے معیارات اختیار نہیں کرنے چاہئیں۔ ایک طبقہ کو نشانہ بنانے کیلئے احتجاج کو کچلنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو دوسروں کیلئے بھی ایسا کیا جانا چاہئے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو ایسے اقدامات اور فیصلوں سے ہی گریز کرنا چاہئے جو سماج کے اہم طبقات کو احتجاج پر مجبور کریں ۔ اگر احتجاج ہوتا ہے تو سبھی طبقات سے یکساں سلوک کیا جائے ۔