روس ۔ یوکرین سرحد سے دل دہلا دینے والی آڈیو ریکارڈنگ ، معذور اہلیہ جمیلہ بیگم نے شوہر کی واپسی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ یکم ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے والے تلنگانہ کے محنت کش اور غریب نوجوان نقلی ایجنٹوں کی مکاری اور فریب کا شکار ہو کر جنگی میدان میں موت کے منہ میں چلے گئے ہیں ۔ لاکھوں روپئے کی پرکشش تنخواہ ، آسان ملازمت اور بہترین زندگی کی دلکش تصویر دکھا کر ایجنٹ ان مظلوم نوجوانوں کو روس لے گئے ۔ لیکن وہاں پہونچتے ہی ان کے پاس فوج میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ ضلع نظام آباد کے بھوکیا رویندر ، ایم پرکاش ، سریش اشوک اور محمد افضل خان روسی فوج میں زبردست جبر کے ساتھ ( Frontline Soldiers ) بنا دئیے گئے ہیں اور اس وقت ہر لمحہ اپنی زندگی کی بقا کی خوفناک جنگ لڑ رہے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ صرف متحدہ ضلع نظام آباد کے ہی نہیں بلکہ تلنگانہ کے تقریبا 1500 سے زائد نوجوان ایجنٹس کے اسی طرح کے فراڈ کا شکار ہو کر روسی فوج کے محاذ پر پھنسے ہوئے ہیں ۔ بانسواڑہ منڈل سے تعلق رکھنے والے متاثرہ نوجوان محمد افضل خان نے یوکرین کی سرحد پر منتقل کئے جانے کے وقت اپنی اہلیہ کو جو آڈیو ریکارڈنگ بھیجی ہے ۔ وہ پتھر دل انسان کو بھی رولا دینے کے لیے کافی ہے ۔ ریکارڈنگ میں وہ روتے ہوئے سسک رہے ہیں اور اپنی اہلیہ کو بتا رہے ہیں مجھے کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ یوکرین کی سرحد پر لے جایا جارہا ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ میں اس جنگ میں زندہ رہوں گا یا نہیں ۔ گھر میں سب کا خیال رکھنا ۔ بچوںکی اچھی پرورش کرنا اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کردینا ۔اللہ سے میرے لیے دعا کریں ۔ مجھے آج دوپہر کا کھانا نہیں دیا گیا ہے ۔ پینے کا پانی نہیں ہے ۔ میرا گلا خشک ہوچکا ہے ۔ پتہ نہیں وہ مجھے جنگل میں کہاں لے جارہے ہیں ۔ میں نے زندگی میں کوئی غلطی کی ہوگی ۔ افضل خان کی اہلیہ جمیلہ بیگم پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس شوہر کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے پیسے نہیں تھے جس پر انہوں نے 2.40 لاکھ روپئے کا سونا رہن رکھ کر رقم کا انتظام کیا ۔ لیکن ایجنٹ نے دھوکے سے انہیں روس بھیج دیا اور وہاں ان پر تشدد کر کے زبردستی فوج میں ڈیوٹی پر لگا دیا گیا ۔ جمیلہ بیگم ایک معذور خاتون ہیں اور اپنے گھر میں دو چھوٹے بچوں کے ساتھ بے یار و مددگار ہو کر رہ گئی ہیں ۔ انہوں نے روتے ہوئے سوال کیا کہ وہ اپنے شوہر کے بغیر کیسے رہیں گی اور زیورات کا قرض کیسے چکائیں گی ۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت ، وزارت خارجہ اور اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کر کے اپنے شوہر کی بحفاظت وطن واپسی کی التجا کی ہے ۔۔ 2/m/b