ایرانی سپریم لیڈر کا پوسٹر پھاڑنے پر 21 سالہ نوجوان کو گولی مار دی گئی

   

تہران : ایرانی سکیورٹی اداروں نے مہسا امیینی کی پولیس حراست میں ہلاکت پر احتجاج کرنے والے ایک شخص کو محض اس لیے قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا کہ وہ سپریم لیڈر کے پوسٹر کو پھاڑ رہا تھا۔بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بہیمانہ واقعہ 21 ستمبر کو پیش آیا تھا۔ جب 21 سالہ عرفان رضائی مظاہرین کا حصہ ہوتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کی تصویر پر مبنی پوسٹر کو پھاڑ رہا تھا۔ اسے قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مگر اہل خانہ کو مرنے کے دودن بعد مشروط طور پر لاش دی گئی۔ نیز یہ کہا گیا کہ اسے گولی مظاہرین میں سے ہی اس کے کسی ساتھء نے ماری ہے۔ تاہم ذرائع ابلاغ کے مطابق اس بارے میں اب تک کسی سرکاری ذمہ دار نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔بعد میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق رضائی کو موت اس کے گردوں اور تلی کو گولی لگنے سے پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے ہوئی تھی۔