ایران جنگ بندی کیلئے تیار

   

تمہاری یہ اوقات ہنستے ہو ہم پر
ہماری یہ قسمت کہ آنسو بہائیں
ایران نے آج واضح کردیا ہے کہ اگر کسی گوشے کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں شروع ہوتی ہیں تو وہ اس کیلئے تیار ہے ۔ اس طرح ایران نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا اور جو جنگ جاری ہے اسے ایران پر مسلط کردیا گیا ہے ۔ یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی ہے بلکہ اسرائیل اور امریکہ نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے یہ جنگ شروع کی تھی اور ایران محض اپنا دفاع کر رہا ہے اور جوابی کارروائی کر رہا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران کو لگاتار دباؤ کے ذریعہ کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور پھر اچانک ہی اس پر حملہ کردیا گیا تھا ۔ ایران نے چند ہی منٹوں کے بعد جوابی حملے بھی کئے ہیں۔ علاقہ کے ممالک میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کے علاوہ اسرائیل کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور اس نے بھی اپنی طاقت کے مطابق انہیںنقصان سے دوچار کیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ دنیا بھر کا صیہونی کنٹرول والا میڈیا امریکہ اور اسرائیل کو ہونے والے نقصانات کی خبریں نشر نہیں کر رہا ہے ۔ میڈیا کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جنگ میں ایران کا ہی نقصان ہوا ہے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جھوٹ پھیلانے میں ماہر ہیں اور یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ایران کسی بھی وقت ہتھیار ڈال سکتا ہے جبکہ ایران نے یہ واضح کردیا ہے کہ جنگ اس نے شروع نہیں کی ہے اور وہ جنگ چاہتا بھی نہیں تھا بلکہ اس پر جنگ تھوپی گئی ہے اور وہ اپنی جانب سے جوابی کارروائی کر رہا ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس اراگچی نے آج کہا کہ اگر دنیا کے کسی بھی گوشے سے جنگ بندی کیلئے کوششیں شروع کی جاتی ہیں تو وہ ان کا خیرمقدم کرنے اور جنگ بندی کیلئے تیار ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ امریکہ نے بظاہر ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے لیکن درپردہ سفارتی کوششوں میں امریکہ اصرار کر رہا ہے کہ کسی طرح سے یہ جنگ رکوائی جائے اور اسے اس جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ فراہم کیا جائے ۔ عباس اگاگچی نے ایک اور خاص بات کہی ہے کہ عرب ممالک کے سیول مقامات پر ایران نے کوئی حملہ نہیں کیا ہے اور اگر ایسا ہوا ہے تو اس کیلئے اسرائیل ہی ذمہ دار ہوسکتا ہے ۔ ایران کی یہ بات قابل غور ہے ۔
اسرائیل کا جہاں تک سوال ہے تو ساری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ وہ کس طرح سے چالبازیوں میں مہارت رکھتا ہے اور امریکہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔ ایسے میں عرب ممالک کو اکسانے کیلئے اور عوام میں ایران کے تعلق سے پائی جانے والی ہمدردی کو دور کرنے کیلئے کچھ ایسے مقامات پر خود اسرائیل نے حملے کئے ہوں جو سیویلین ہیں۔ ایران کا جہاں تک سوال ہے تو اس نے باضابطہ طورپر واضح کردیا ہے کہ اس نے کسی سیویلین مقام کو اپنے حملوں کا نشانہ نہیں بنایا ہے ۔ اسرائیل جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والا ملک ہے ۔ اس نے انسانیت کے خلاف بھی جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔ جس طرح سے غزہ میں تباہی مچائی گئی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی گئی ہے وہ ساری دنیا نے دیکھا ہے ۔ وہاں نہتے اور بے گناہ معصوم فلسطینیوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بناتے ہوئے ختم کردیا گیا تھا ۔ اسرائیل کسی بھی حد تک جاسکتا ہے تاکہ اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھاسکے ۔ اسی کوشش میں وہ عرب ممالک کو اکسانے اور ان کے فضائی اڈوں کے امریکہ کی جانب سے استعمال کو یقینی بنانے کیلئے عرب ممالک کو بھی نشانہ بناسکتا ہے ۔ ایران نے جو دعوی کیا ہے اس کی جانچ کی جانی چاہئے ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر واقعی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں تو یہ واضح ہوجائے گا کہ ایران نے ہی اس طرح کے حملے کروائے ہیں تاکہ جنگ کو وسعت دی جاسکے اور ایران کے خلاف کئی ممالک اٹھ کھڑے ہوں ۔ تاہم تاحال اسرائیل اپنی اس کوشش میں ناکام رہا ہے ۔
جہاں تک جنگ بندی کا سوال ہے تو دنیا کے اثر دار ممالک کو واقعتا اس معاملے میں آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ یہ جنگ بے معنی سی جنگ ہے جو محض ایران کی دشمنی میں اور اسرائیل کے ظالمانہ عزائم کی تکمیل کیلئے شروع کی گئی ہے ۔ یہ جنگ بھی انسانیت کے خلاف جرم ہے اور اسے روکا جانا چاہئے ۔ جنگ بندی کیلئے جو شرائط ہونگی وہ انتہائی سخت ہونی چاہئیں اور امریکہ اور اسرائیل کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہئے ۔ ایران کے خلاف مستقبل میں کسی طرح کی جارحیت نہ کرنے کا وعدہ کیا جانا چاہئے اور جو نقصانات ہوئے ہیں ان کی تلافی کی جانی چاہئے ۔ دنیا کو اس معاملے میں اپنی خاموشی ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔