حیدرآباد ۔ یکم ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میں خوردنی تیل ، دالوں ، شکر اور ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ سے گھریلو بجٹ پر اس کے منفی اثرات ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ فیول اور پکوان گیس کی قیمتوں میں ہوئے اضافہ سے عام آدمی پر اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ شہر میں صارفین اس صورتحال کو تکلیف دہ محسوس کررہے ہیں کیوں کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ جب کہ ٹریڈرس نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی ، ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور تشویشناک ڈومیسٹک سپلائی کے باعث آئندہ مہینوں میں قیمتیں دباؤ میں رہ سکتی ہیں ۔ قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہونے والی اشیاء میں خوردنی تیل ، ریفائینڈ ویجیٹبل آئیلس ، اور سیڈ آئیلس کی قیمتوں میں گذشتہ تین مہینوں میں فی لیٹر 20 تا 30 روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ سرسوں کا تیل اور پام آئیل کی قیمتیں اب حیدرآباد میں 180 اور 190 روپئے کے درمیان ہے ۔ ٹریڈرس کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو قیمتیں جلد ہی 200 روپئے فی لیٹر کے نشانہ کو پار کرسکتی ہیں ۔ سن فلاور تیل بشمول مشہور برانڈس جیسے فریڈم ، گولڈ ڈراپ اور سن پیور کی فروخت فی الوقت 150 اور 190 روپئے فی لیٹر کے درمیان ہورہی ہے جب کہ پام آئیل کی قیمت 110 تا 140 روپئے فی لیٹر کے درمیان ہے ۔ مونگ پھلی کا تیل ، جسے ایک عمدہ پکوان تیل سمجھا جاتا ہے ۔ 170 تا 185 روپئے فی لیٹر یا اس سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے ۔ جب کہ رائس بران آئیل کی قیمت 150 اور 165 روپئے فی لیٹر کے درمیان ہے ۔ زیادہ مقدار میں خریدی بھی اب بہت مہنگی ہوگئی ہے ۔ برانڈ اور آئیل ورائٹی کے لحاظ سے 15 لیٹر ٹن یا کیان کی قیمت اب 2300 اور 2900 روپئے کے درمیان ہوگئی ہے ۔ ٹریڈرس کے مطابق گلوبل سپلائی میں خلل ، فریٹ چارجس میں اضافہ ، اور مغربی ایشیا میں لڑائی کے باعث قیمتوں میں اس طرح کا اضافہ ہوا ہے ۔۔ A/m/b