ایران سے معاہدہ کے قطعی نکات منظور ‘ اعلی ایرانی قیادت بھی رضا مند

,

   

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعوی ۔ معاہدہ پر دستخط کے وقت اور مقام کا جلد اعلان ۔ ایران پر فوجی حملے منسوخ کرنے کا بھی سوشیل میڈیا پر بیان

واشنگٹن 11 جون ( ایجنسیز ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف شدید حملے کرنے کا انتباہ دینے کے بعد ان حملوں کو منسوخ کردیا اور اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدہ پر دستخط کا امکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اعلی قیادت نے مذاکرات اور قطعی نکات کو منظوری بھی دیدی ہے ۔ سوشیل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس حقیقت کی بنیاد پر کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بات چیت اور اس کو ایرانی اعلی قیادت کی منظوری ہوئی ہے میں بحیثیت صدر امریکہ ایران کے خلاف آج رات حملوں اور بمباری کو منسوخ کرتا ہوں۔ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی کے ممالک جیسے اسرائیل ‘ سعودی عرب ‘ متحدہ عرب امارات ‘ قطر ‘ ترکی ‘ پاکستان ‘ بحرین ‘ کویت ‘ اردن ‘ مصر اور دوسروں کے علاوہ امریکہ نے بھی معاہدہ کے قطعی پوائنٹس کو منظوری دیدی ہے ۔ ٹرمپ نے تاہم یہ واضح کیا کہ ایران کا بحری محاصرہ جاری رہے گا جب تک معاہدہ کو قطعیت نہیں دی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ پر دستخط کے وقت اور مقام کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ قبل ازیں ٹرمپ نے سوشیل میڈیا پر ہی ایک پوسٹ کرکے خبردار کیا تھا کہ آج رات امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف طاقتور حملہ کیا جائے گا ۔ ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں پوری طرح سے ختم ہوگئی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کسی نہ کسی وقت پر کھرگ جزیرہ بھی حاصل کرلے گا جو ایران کا معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے خام تیل کی برآمدات کا 90 فیصد حصہ گذرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں ہم کھرگ جزیرہ اور دوسرے تیل انفرا اسٹرکچر پوائنٹس کا کنٹرول حاصل کرلیں گے ۔