ایران سے ہندوستان کا اظہار تعزیت

   

وعدے کا اعتبار تو اے یار ہے مگر
کیا اعتبار زندگیِٔ مستعار کا
ہندوستان نے بالآخر ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ ہندوستان نے اس کام میں بہت تاخیر سیف یصلہ کیا اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے لگاتار حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایاجا رہا تھا کہ ایران ‘ ہندوستان کا ایک اچھا دوست رہا ہے اور اس نے اہم مواقع پر ہندوستان کا ساتھ دیا ہے ایسے میں رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر ہندوستان کو افسوس کا اظہار اور تعزیت تو کرنی ہی چاہئے ۔ ویسے بھی کسی بھی انسان کی موت پر تعزیت کا اظہار کرنا ایک انسانی جذبہ کی عکاسی کرتا ہے اور ایرانی رہنماء نے تو ظلم کے آگے سینہ سپر ہوتے ہوئے ایک طرح سے خود کو شہادت کیلئے پیش کردیا تھا کیونکہ انہیں خفیہ بنکر میں منتقل ہوجانے کا مشورہ دیا گیا تھا جو انہوں نے قبول نہیں کیا اور لمحہ آخر تک بھی خدمات انجام دیتے ہوئے شہید ہوگئے تھے ۔ ایک ایسے بہادر اور اولوالعزم رہنما کی شہادت پر ہندوستان کو اپنے دیرینہ اور روایتی تعلقات کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کرنے کی ضرورت تھی ۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی خاموشی اور اسرائیلی جارحیت کی تائید و حمایت پر تنقید کرتے ہوئے اسے خارجہ پالیسی سے انحراف قرار دیا تھا ۔ یہ دعوی کیا گیا تھا ہندوستان نے اپنے ایک روایتی اور قابل بھروسہ دوست ملک کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور اسرائیل سے تعلقات کو اہمیت دی جانے لگی ہے ۔ تاہم آج ہندوستان نے باضابطہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کردیا ہے ۔ ہندوستان کے معتمد خارجہ مسٹر وکرم مصری نے ایرانی سفارتخانہ کا دورہ کی اور وہاں کتاب تعزیت میں ہندوستان کی جانب سے تعزیت تحریر کی ۔ یہ ایک تاخیر سے کیا گیا تاہم اچھا فیصلہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں اور ایران نے کئی اہم مواقع پر ہندوستان کی تائید کی ہے اور ہندوستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔ ایران نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے ہندوستان کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا اور اس بات کو ہندوستان اور ہماری حکومت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔
وزیرا عظم نریندر مودی کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ ان دنوں اسرائیل اور اسرائیلی وزیر اعظم کی مدح سرائی میں مصروف ہیں۔ وہ نئی دوستیوں کو اہمیت دینے لگے ہیں جبکہ روایتی دوستوں سے ناطہ توڑا جا رہا ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ کا جہاں تک سوال ہے تو اسرائیل اور امریکہ دونوں ہی بے بھروسہ ممالک ہیں۔ ویسے بھی امریکہ کے ساتھ ایک سے زائد مواقع پر وزیر اعظم مودی کو تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ باہمی تعلقات اس طرح کے نہیں رہ گئے ہیں جیسے ہونے چاہئے تھے یا جس طرح کے ہونے چاہئے تھے ۔ ایک سے زائد مواقع پر صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان مخالف ریمارکس کئے ہیں۔ پاکستان کی مدح سرائی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔ پاکستانی فوجی سربراہ کو وائیٹ ہاوز مدعو کرتے ہوئے ظہرانہ کا اہتمام کیا تھا ۔ ان کی تعریفوں کے پل باندھنے سے نہیں تھکتے ہیں اور وہی اسرائیل کو ایران کے خلاف ہوا بھی دے رہے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کو زیادہ انحصار امریکہ یا اسرائیل پر کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ اسرائیل بھی محض ایران کے خلاف جنگ اور اپنی جارحیت کے سلسلہ کو دراز کرنے ہندوستان کو اپنا ہمنواء بنائے رکھنا چاہتا ہے ۔ ہندوستان میں اسرائیلی اشیاء کی بڑی مارکٹ ہے ۔ ایسے میں ہندوستان کو اسرائیل پر انحصار نہیں بلکہ اسرائیل کو ہندوستان پر انحصار کرنے کی صورتحال پیدا کی جانی چاہئے تاہم یہاں صورتحال اس کے الٹ یا برعکس دکھائی دے رہی ہے جس کا از سر نو جائزہ لئے جانے کی ضرورت ہے ۔
جس وقت سے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی ظالمانہ جارحیت کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے وزیر اعظم نریندر مودی لگاتار علاقہ کے ممالک کے سربراہان حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ایران کے جوابی حملوں کی مذمت کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایران پر کی گئی جارحیت پر انہوں نے زبان نہیں کھولی ہے اور نہ ہی انہوں نے ایرانی رہبر اعلی کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ آج وزیر خارجہ ڈاکٹر جئے شنکر نے ایرانی وزیر خارجہ سے بات کی ہے اور علاقہ کے حالات پر تبادلہ خیال کیا ۔ ہندوستان کو اپنے موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ روایتی و دیرینہ تعلقات کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔