تہران : ایران ایک پہاڑ کے اندر بنائی جانے والی اپنی نیوکلیر تنصیب ’فردو‘ میں یورانیم کی افزودگی کو نیوکلیر بم کی تیاری کی سطح کے قریب لانے کے بعد اس کی زیادہ سخت نگرانی پر رضامند ہو گیا ہے۔ یہ بات انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے جمعرات کو ایک رپورٹ میں کہی ہے جسے رائٹرز نے دیکھا ہے۔ پچھلے ہفتہ نیوکلیر توانائی کے بین الاقوامی ادارے، آئی اے ای اے نے رپورٹ کیا تھاکہ ایران نے اپنی افزودگی کی رفتار کو 60 فیصد تک بڑھا دیا ہے، فردو میں یہ سطح 90 فیصد تک ہے جو ایک نیوکلیر بم بنانے کے لیے درکار سطح کے قریب ہے۔ مغربی طاقتوں نے اسے انتہائی سنگین اضافہ قرار دیا ہے۔ اس وقت ادارے نے کہا تھا کہ وہ یورانیم کی افزودگی سے متعلق’ فردو فیول اینرچمنٹ پلانٹ‘ (ایف ایف ای پی) میں معائنوں جیسے سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر تبادلہ خیال کرے گا، جو ان دو نیوکلیر تنصیبات میں سے ایک ہے جہاں ایران اعلیٰ ترین سطح پر افزودگی کر رہا ہے۔ میڈیا کے مطابق جمعرات کوآئی اے ای اے نے رکن ملکوں کو دی گئی اپنی خفیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ،” ایران نے ایجنسی کی جانب سے ایف ایف ای پی میں حفاظتی اقدامات کے نفاذ کی فریکوئینسی اور سطح میں اضافے کی درخواست سیاتفاق کیا ہے اور وہ اس مستحکم حفاظتی طریقہ کار کے نفاذ میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔