جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کی احتجاج کیلئے اپیل کے بعد انٹرنٹ بند ۔ مظاہروں میں 45 ہلاک ، ہزاروں گرفتاریاں
تہران /9جنوری (ایجنسیز)ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے، جہاں مظاہرین براہِ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں نعرے لگائے جا رہے ہیں جن میں جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی کو اقتدار منتقل کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق مظاہروں کو پرتشدد بنانے میں امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ دہشت گرد ایجنٹ ملوث ہیں۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ کچھ فسادی عناصر غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور ان کا مقصد ایران میں بدامنی پھیلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔خامنہ ای نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ ایران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے فوجیوں اور قاتلوں کے طور پر کام کرنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کا حصہ بننے کے بجائے ملک کے اندرونی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ رپورٹوں کے مطابق خطاب کے دوران ہجوم کی جانب سے امریکہ مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔ ایران میں گزشتہ بارہ دنوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں نے انتہائی سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ایرانی حکام نے ملک بھر میں اچانک انٹرنیٹ سروس بند کر دی۔ یہ اقدام جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کی اپیل کے فوراً بعد سامنے آیا۔مبصرین کے مطابق انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا مقصد مظاہرین کے درمیان رابطہ منقطع کرنا اور زمینی حقائق کو عالمی میڈیا تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ رضا پہلوی نے اس سے قبل اپنے بیان میں خبردار کیا تھا کہ حکومت خوف کے باعث معلومات کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ بند کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کو متحد ہو کر سڑکوں پر آنا ہوگا تاکہ ’’آمرانہ نظام‘‘ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ یہ تازہ بدامنی 28 دسمبر 2025 کو دارالحکومت تہران کی مارکیٹوں سے شروع ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے دیگر شہروں تک پھیل گئی۔ احتجاج کی بنیادی وجوہات میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں تاریخی کمی، 42 فیصد سے زائد افراطِ زر، بجلی کی طویل بندش اور ایندھن کی قلت شامل ہیں۔ ایران برسوں کی اقتصادی پابندیوں اور خطے میں مسلسل کشیدگی کے باعث پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بچوں سمیت کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2,260 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ایرانی چیف جسٹس نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف سرگرم عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ایران میں جاری شدید مظاہروں کے دوران ایک نام بار بار سنائی دے رہا ہے—رضا پہلوی۔ سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ رضا پہلوی کون ہیں، اور ان کے نام پر لگنے والے نعروں نے ایران اور عالمی سطح پر نئی بحث کیوں چھیڑ دی ہے؟ رضا پہلوی ایران کے سابق بادشاہ محمد رضا پہلوی کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد جب شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا تو پہلوی خاندان ایران چھوڑ کر جلاوطنی میں چلا گیا۔ اسی دوران رضا پہلوی کو شاہی خاندان کی جانب سے ایران کا ولی عہد قرار دیا گیا، اگرچہ وہ کبھی عملی طور پر اقتدار میں نہیں آئے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں شاہی نظام ختم ہوا اور بعد ازاں موجودہ مذہبی نظام قائم ہوا، جس کی قیادت آج آیت اللہ علی خامنہ ای کر رہے ہیں۔ انقلاب کے وقت محمد رضا پہلوی شدید علیل تھے اور خاندان کے ہمراہ ملک چھوڑ گئے۔ تب سے پہلوی خاندان بیرونِ ملک مقیم ہے۔
رضا پہلوی نے اپنی تعلیم و تربیت مغرب، خصوصاً امریکہ میں حاصل کی۔ وہ ایرانی فضائیہ کے کیڈٹ رہے اور بعد ازاں امریکہ میں پائلٹ کی تربیت لی۔ پہلوی خاندان کے امریکہ سے قریبی تعلقات تاریخی طور پر معروف رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن اور تہران کی موجودہ قیادت کے درمیان کشیدگی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسی پس منظر میں جب ایران کے اندر مظاہروں کے دوران رضا پہلوی کے حق میں نعرے سنائی دیتے ہیں تو قیاس آرائیاں زور پکڑ لیتی ہیں کہ آیا بیرونی قوتیں کسی متبادل قیادت کو ابھارنا چاہتی ہیں۔ ایران اس وقت مہنگائی، معاشی دباؤ اور سیاسی بے چینی کی شدید لہر سے گزر رہا ہے۔ تہران سے دور دراز علاقوں تک حکومت مخالف نعرے لگ رہے ہیں۔ بعض مقامات پر رضا پہلوی کے نام کا گونجنا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ احتجاج محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی رخ بھی اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ نعرے کسی فوری اقتدار کی تیاری کے بجائے ایک علامتی متبادل (symbolic alternative) کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رضا پہلوی گزشتہ تقریباً پینتالیس برس سے ایران سے باہر مقیم ہیں اور ایران کے اندر ان کی کوئی منظم سیاسی مشینری موجود نہیں۔ تاہم ان کا نام شاہی دور کی یاد، مغربی طرزِ حکومت اور موجودہ مذہبی نظام سے بیزاری کے اظہار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ موجودہ مظاہروں کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا ایران میں گزشتہ تقریباً 46 برس سے قائم نظام کو حقیقی خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ ایرانی حکومت اور بعض عالمی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے بیرونی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کا کردار ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق امریکہ ماضی میں بھی مختلف ممالک میں اندرونی بے چینی کو حکومت کی تبدیلی کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، اور ایران میں ابھرتی ہوئی صورتحال کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ فی الحال ایران شدید غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ مظاہرے وقتی دباؤ ثابت ہوں گے یا واقعی ملک کو کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی جانب لے جائیں گے، تاہم ایک بات طے ہے کہ ایران اس وقت اپنی جدید تاریخ کے ایک نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
