ایران میں مزید 26 مظاہرین کو پھانسی کا سامنا : ایمنسٹی

   

تمام مظاہرین کو منصفانہ عدالتی سماعت کا موقع نہیں دیا گیا، ایمنسٹی کا ایرانی عدلیہ کو مکتوب

نیویارک : ایرانی حکومت کو متزلزل کر دینے والے مظاہرے چوتھے مہینے میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ تہران کی جانب سے پھانسیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک کم از کم دو مظاہرین کو موت کی سزا دی جا چکی ہے۔ انسانی حقوق کے نگران ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 16 دسمبر کو شائع ہونے والے اپنے ایک خط میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کو پھانسی دینے کا سلسلہ ختم کرے۔ اس مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ 11 افراد کو پہلے ہی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ مزید 15 پر اسی طرح کے جرائم کا الزام ہے جس کے تحت انہیں پھانسی کی سزا ہو سکتی ہے۔ ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے مظاہرین میں سے اب تک کم از کم دو نوجوانوں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ جمعہ کے روز بھی صوبہ سیستان بلوچستان میں سینکڑوں مظاہرین کو سڑکوں پر نکلتے دیکھا گیا اور اس طرح ایران میں جاری مظاہرے اب چوتھے مہینے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجائی کے نام لکھے گئے اپنے مکتوب میں کہا کہ ان تمام 26 افراد کو ایسی منصفانہ عدالتی سماعت کا موقع نہیں دیا گیا، جس میں مناسب دفاع کے حقوق، اپنی پسند کے وکلاء تک رسائی، بے گناہی ثابت کرنے، خاموش رہنے اور ایک منصفانہ عدالتی کارروائی جیسے دیگر حقوق شامل ہیں۔ چار ماہ قبل ایران میں مظاہرے ایک نوجوان کرد خاتون مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوئے تھے۔ انہیں مبینہ طور پر لباس سے متعلق ملک کے سخت ضوابط کی پابندی نہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ سڑکوں پر ہونے والی جھڑپوں میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دسیوں ہزار افراد کو گرفتار کر کے سخت سکیورٹی والے جیلوں میں قید کیا گیا ہے۔ مظاہرین کے خلاف اس پرتشدد کریک ڈاؤن کی سخت الفاظ میں مذمت کرنے کے ساتھ ہی یورپی یونین، امریکہ اور کینیڈا کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ جمعرات کے روز ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی ووٹنگ کے ذریعہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے اس کی مذمت بھی کی گئی۔ اس میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور پرامن مظاہرین کے خلاف پر تشدد رد عمل کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان مظاہروں کو 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ ایران میں ملایت پر مشتمل حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ انقلاب کے بعد ہی ایران میں پہلی بار ملا اقتدار میں آئے تھے۔