ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کردی

,

   

تہران ۔ 18 اپریل (ایجنسیز) جنگ بندی کی کوششوں کے لیے پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف کے دورے مکمل، ناکہ بندی سے متعلق ٹرمپ کا تازہ بیان اور یہ اور دیگر خبروں کے لیے ڈی ڈبلیو کی خصوصی کوریج۔ ایران نے اپنی بندرگاہوں کی مسلسل امریکی ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی نے یہ بات ایران کی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر کے حوالے سے بتائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج کے متحد کمانڈ اسٹرکچر، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنی سابقہ حالت پر واپس آ گیا ہے اور یہ تزویراتی (اسٹریٹجک) سمندری راستہ مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول میں ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایران نے اس سے قبل ’’نیک نیتی کے ساتھ‘‘ تیل کے ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی ایک محدود تعداد کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا۔ فارس نیوز کے مطابق ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن بدقسمتی سے، امریکیوں نے اپنی بدعہدی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ناکہ بندی کے نام پر قزاقی اور سمندری چوری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس اہم بحری راستے کی ہفتوں تک جاری رہنے والی تقریباً مکمل ناکہ بندی کے بعد، تہران کی قیادت نے جمعہ کو کہا تھا کہ جنگ بندی کے دوران تیل کے ٹینکر اور تجارتی جہاز دوبارہ آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا تھا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھے گا، جس کا اطلاق صرف ایران آنے اور جانے والے جہازوں پر ہوتا ہے، جب تک کہ ایران کے ساتھ ہمارا معاملہ 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔