ایران پر رات بھر اسرائیلی حملے ، سائنسداں سمیت 9 شہید

   

تہران، 24 جون (یو این آئی)امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کے نفاذ سے قبل رات بھر ایران پر جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں میں نیوکلیئر سائنسدان صدیقی صابر سمیت 9 ایرانی شہری شہید اور 4 رہائشی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ایرانی میڈیا نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ رات کے وقت ملک کے شمالی حصے پر اسرائیلی حملے میں 9 افراد شہید ہو گئے ، یہ واقعہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کے نفاذ سے پہلے پیش آیا۔ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس نیوز’ کے مطابق صوبہ گیلان کے ایک اعلیٰ عہدیدار علی باقری نے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں 4 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ کئی ملحقہ گھروں کو بھی دھماکوں سے نقصان پہنچا ہے ۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘پریس ٹی وی’ کے مطابق شمالی تہران پر اسرائیلی حملے میں نیوکلیئر سائنسدان محمد رضا صدیقی صابر بھی شہید ہوگئے ۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ محمد رضا صدیقی صابر کو ان کے والدین کے گھر آستانہ اشرفیہ (شمالی ایران) میں نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق محمد رضا صدیقی صابر امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل تھے ، چند روز قبل ان کا 17 سالہ بیٹا تہران میں ان کے گھر پر حملے میں شہید ہو گیا تھا۔دریں اثنا، تہران میں رات بھر دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا، جہاں دارالحکومت کے شمالی اور وسطی علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کو ‘اے ایف پی’ کے صحافیوں نے اس تنازعہ کے آغاز کے بعد سے سب سے شدید قرار دیا۔ایران کی وزارت صحت کے مطابق 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے حملوں میں 400 شہری شہید ہوئے ۔دوسری جانب اسرائیل میں 12 دن گزرنے کے باوجود مکمل نقصانات کا اندازہ تاحال نہیں لگایا جا سکا، کیونکہ فوجی سنسرشپ کے قوانین معلومات کی اشاعت کو محدود کر رکھا ہے ، تاہم ملک بھر میں کم از کم 50 میزائل حملوں کے اثرات کی تصدیق ہو چکی ہے اور منگل کے حملوں سے پہلے سرکاری ہلاکتوں کی تعداد 24 تھی۔