ایران کا افزودہ یورینیم امریکی حملوں سے قبل منتقل کردیا گیا تھا

   

تہران، 27 جون (یو این آئی) ایران نے 22 جون کو ہونے والے امریکی فضائی حملوں سے پہلے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو فردو نیوکلیائی مرکز سے منتقل کر دیا تھا۔ فنانشل ٹائمز نے جمعہ کے روز یورپی حکام کے انکشاف کردہ مشترکہ ابتدائی انٹیلی جنس تشخیص کی بنیاد پر رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔ایران انٹرنیشنل کے مطابق اگر اس اقدام کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایران کے 408 کلو گرام 60 فیصد خالص افزودہ یورینیم کا زیادہ تر ذخیرہ محفوظ ہے ۔ تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام تباہ ہو گیا ہے ۔فنانشل ٹائمز نے یورپی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ حملے کے وقت ایران کا ذخیرہ ممکنہ طور پر متعدد مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا اور اس کا بیشتر ذخیرہ فردو مرکز میں نہیں تھا۔ ابتدائی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قم کے قریب زیر زمین فردو نیوکلیائی سینٹر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے لیکن مکمل تباہی نہیں ہوئی۔یورپی یونین کے حکام نے کہا کہ امریکہ نے یورپی اتحادیوں کو ایران کی جوہری صلاحیتوں کی موجودہ حالت کے بارے میں حتمی انٹیلی جنس فراہم نہیں کی تھی اور امریکہ کی مستقبل کی سفارتی سمت غیر واضح ہے ۔ امریکی حملے سے عین قبل یورپی وزراء اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت ہوئی تھی لیکن اس کے بعد سے سفارتی اقدامات تعطل کا شکار ہیں۔