روس اور ترکی کی مداخلت سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، صدر روحانی کا تاثر
تہران :ایران کے صدر حسن روحانی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی قفقاس میں ْآذری فورسز اور آرمینیائی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی خطے میں جنگ کا باعث بن سکتی ہے جبکہ لڑائی میں ہلاکتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آرمینیائی جنگجوؤں کے زیرتسلط آذربائیجان کے علاقے نیگورنو۔کاراباخ میں جاری لڑائی میں اب تک 300 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔آذربائیجان کے حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ علاقے سے باہر واقع شہروں پر بھی حملے کیے گئے ہیں اور لڑائی یورپ کو جانے والی گیس اور تیل کی پائپ لائن کے قریب تک پھیل گئی ہے۔آذربائیجان اور آرمینیا دونوں کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھنے والے ایران نے خدشات کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے قریبی ترکی اور روس بھی تنازعہ میں کود سکتے ہیں۔ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری لڑائی خطے کی جنگ نہ بن جائے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کام کی بنیاد امن ہے اور ہمیں اْمید ہے کہ خطے کا استحکام پرامن انداز میں بحال ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ ایران ‘کسی بھی ریاست کو ہماری سرحدوں پر مختلف پہلوؤں سے دہشت گردوں کو بھیجنے کی اجازت نہیں دے گا’۔دوسری جانب روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے دونوں ممالک سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشیدگی افسوس ناک ہے اور روس کو اس پر گہری تشویش ہے۔روس کی خفیہ ایجنسی ایس وی آر کے سربراہ سرگئی نیراشکن کا کہنا تھا کہ اس تنازعہ سے مشرق وسطیٰ سے دہشت گردوں اور جنگجوؤں کو موقع مل گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیگورنو۔کاراباخ اسلامسٹ انتہاپسندوں کو روس اور خطے کی دیگر ریاستوں میں داخلے کے لیے ایک راستہ بن سکتا ہے۔اس سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون اور شامی صدر بشارالاسد نے ترکی پر شام میں مداخلت کے الزامات لگائے تھے تاہم ترکی نے مداخلت کے الزامات یکسر مسترد کردیے تھے۔یاد رہے کہ 3 اکتوبر کو نیگورنو۔کاراباخ میں جاری لڑائی کے دوران ایران کی سرحد پر بھی مارٹر گولے گرے تھے جس پر ایران نے خبردار کیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جنگ کے دوران ایرانی دیہی علاقوں میں مارٹر گرنے پر تہران نے اسے ’دخل اندازی‘ قرار دیا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں اطراف سے ہماری سرزمین پر کسی قسم کی مداخلت ناقابل برداشت ہے، ہم تمام فریقین کو سنجیدگی سے خبردار کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔