ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب
ابھی حیات کا ماحول سازگار نہیں
ایران کو ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دھمکیاںدی جیا رہی ہیں۔ ایران کو نشنانہ بنانے کی ایسا لگتا ہے کہ تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔ در پردہ منصوبے بنالئے گئے ہیں اور ان کو عملی شکل دینے کیلئے کسی نہ کسی بہانے کی تلاش کی جا رہی ہے۔ ایران میں مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاج کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کرنے کے شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ ان شبہات سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ہی ایران میں ان مظاہروں اور احتجاج کی پشت پناہی کی جا رہی ہے اور کچھ عناصر ہی جنہیں اکساتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ دنیا کے شائد ہر ملک میں حکومت کے خلاف عوامی جذبات پائے جاتے ہیں۔ خود امریکہ میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد نے راست ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر اترکر احتجاج کیا تھا اور ان کو برخواست کرنے تک کی مانگ کی گئی تھی ۔ اسی طرح کچھ دوسرے ممالک میں بھی اس طرح کے مظاہرے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر یوروپی ممالک میں عوام سڑکوں پرا تر کر احتجاج کرنے کی روایت عام ہے ۔ اسی طرح سے اگر ایران میں بھی کچھ مظاہرے ہو رہے ہیں تو ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان مظاہروں کی پشت پناہی بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہی کی جا رہی ہے ۔ ان ہی کی جانب سے اشتعال دلایا گیا ہے اور کچھ عناصر کو استعمال کرتے ہوئے یہ صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ امریکہ ہو یا برطانیہ ہو یا یوروپ کا کوئی اور ملک ہو احتجاج کے دوران مظاہرین کو قابو میںرکھنے کیلئے ہلکی سی طاقت کا استعمال بھی کیا جاتا ہے ۔ ایران میں بھی اگر ایسا ہی کچھ کیا جا رہا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ اس کو بہانہ بنا کر امریکہ کی جانب سے ایران کو دھمکی دی گئی ہے اگر مظاہرین کے خلاف تشدد کیا گیا تو امریکہ راست مداخلت سے گریز نہیں کرے گا ۔ ایران کے داخلی معاملات میںمداخلت کا امریکہ یا کسی اور ملک کو کوئی حق یا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے ۔ ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل صورتحال کا استحصال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
تقریبا دو تا تین ہفتے قبل ایک رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے نیوکلئیر پروگرام کو بہانہ بناتے ہوئے اسرائیل ایک بار پھر ایران پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ کہا گیا تھا کہ اس مسئلہ پر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کرسکتے ہیں۔ گذشتہ دنوں بنجامن نتن یاہو نے امریکہ کا دورہ کیا ۔ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی تفصیلی بات چیت ہوئی اور اس کے ٹھیک بعد میں ایران میں مخالف حکومت مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع کردئے گئے ۔ اس سے یہ شبہات تقویت پاتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ہی خطہ کے دوسرے ممالک کی طرح ایران میں بھی حالات کو بگاڑ کر مداخلت کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ان کے عزائم اور منصوبوں میں ایران کے خلاف ایک اور جنگ کو مسلط کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے ۔ اسی وجہ سے ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دینے سے گریز نہیں کیا اور کہا کہ امریکہ راست مداخلت کرسکتا ہے ۔ اس طرح کی دھمکی پر ایران نے بھی خاموشی اختیار نہیں کی اور اس نے بھی منہ توڑ جواب دینے کی کوشش کی ہے اور کہا کہ اگر امریکہ ایران میں مداخلت کرتا ہے یا طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو علاقہ میں امریکی تنصیبات اور امریکی فوجی ٹھکانے ایران کا لازمی نشانہ ہوسکتے ہیں۔ دونوں جانب سے اس طرح کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں صورتحال کشیدہ ہونے لگی ہے اور خطہ میں حالات بگڑنے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ کئی گوشوں سے تشویش ظاہر کی جا رہی ہے ۔
یہ بات طئے کہی جاسکتی ہے کہ ایران کے تعلق سے اسرائیل اور امریکہ کے عزائم کبھی بھی اچھے نہیں رہے اور ہمیشہ ہی ایران کو نشیانہ بنانے کے کسی نہ کسی بہانے کی تلاش کی جاتی رہی ہے ۔ اب مہنگائی کے خلاف مظاہروں کو بنیاد بناتے ہوئے ایران کو نشانہ بنانے کی کوشش شروع کردی گئی ہے اور یہ اندیشے تقویت پا رہے ہیں کہ ایران پر ایک اور جنگ مسلط کی جاسکتی ہے ۔ اس کے پس پردہ اسرائیل اور امریکہ کے عزائم بہت خطرناک اور سنگین ہوسکتے ہیں۔ دنیا کے امن پسند ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ حالات پر گہری نظر رکھیں اور امریکہ اور اسرائیل کو اپنے جارحانہ اور ظالماینہ عزائم و منصوبوں کی تکمیل سے روکنے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریںا ور علاقہ کو ایک اور جنگ کی تباہی سے بچایا جائے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھی جانی چاہئے کہ ایک اور جنگ نہ صرف خطہ کیلئے بلکہ ساری دنیا کیلئے خطرناک ہوسکتی ہے ۔
ونیزویلا کے صدر کی گرفتاری
امریکہ نے ایک اور اچانک کارروائی کرتے ہوئے ونیزویلا پرنہ صرف فضائی حملے کئے بلکہ ملک کے صدر نکولاس ماڈورا کو بھی گرفتار کرلیا ہے ۔ انہیں ملک کے باہر منتقل کردیا گیا ہے ۔ انہیں امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے اور یہ اعلان کردیا گیا ہے کہ ان کے خلاف منشیات کی تجارت اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے ۔ امریکہ کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت کوئی بھی کارروائی کرتا ہے تاہم کسی ملک کے صدر کو اس طرح سے گرفتار کرلیا جانا اور امریکہ منتقل کرنا ناقابل قبول کہا جاسکتا ہے ۔ جو بھی مسائل رہے ہوں ان کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے تاہم اس طرح کی کارروائی کرتے ہوئے امریکہ نے لاطینی امریکی ممالک پر اپنی اجارہ داری کو ایک بار پھر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے ۔ امریکہ علاقہ کے تقریبا تمام ممالک پر اپنی اجارہ داری چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہر ملک وہی کچھ کرے جو خود امریکہ چاہتا ہے ۔ دنیا بھر کے جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے بھی امریکہ کی اس کارروائی کو تشویشناک ہی کہا جاسکتا ہے اور اس کی کئی ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی ہے ۔ یہ اندیشے سر ابھارنے لگے ہیں کہ لاطینی امریکی ممالک میں یکے بعد دیگرے حالات بگڑسکتے ہیں اور امریکہ بتدریج اپنے منصوبوں پر عمل کرسکتا ہے ۔ اقوام متحدہ کو فوری حرکت میں آتے ہوئے حالات کی یکسوئی کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
