ایران کی قیادت پر نشانہ

   

اسرائیل کی جانب سے ایران کی اعلی قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے اسے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے جو جنگ مسلط کی ہے اس کا آغاز ہی ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا اور انہیں شہید کردیا گیا ۔ اس حملے میں نہ صرف آیت اللہ علی خامنہ ای بلکہ ان کے کئی افراد خاندان نے بھی جام شہادت نوش کیا تھا ۔ اسرائیل اور امریکہ کو یہ یقین سا ہوچلا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت سے ایران کمزور ہو جائے گا اور وہ فوری ہتھیار ڈال دے گا ۔ امریکہ اور اسرائیل کو اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی اور پھر وہی کچھ کیا جائیگا جو یہ صیہونی اور سامراجی ملک چاہیں گے ۔ تاہم ایران کا جو فکری ڈھانچہ ہے وہ کسی ایک شخصیت کے گرد نہیں گھومتا ۔ یہ ایک نظریاتی ڈھانچہ ہے جو کسی ایک شخصیت کی شہادت سے ختم نہیں ہوسکتا ۔ایران نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت یقینی طور پر ایک بہت بڑا اور ناقابل تلافی نقصان ہے لیکن ایران کسی شخصیت کیلئے نہیں لڑ رہا ہے بلکہ یہ جنگ تو اس پر مسلط کی گئی ہے اور وہ محض جوابی کارروائیاں انجام دے رہا ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران اور امریکہ کو مایوسی ہی ہاتھ آئی تھی کیونکہ ایران نے اپنی جانب سے جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا ۔ امریکہ اور اسرائیل کی توقعات کے مطابق نہ ایران نے ہتھیار ڈالے تھے ۔ نہ اس نے جنگ بندی کیلئے کوئی کوششیں کی تھیں۔ نہ اس نے امریکی شرائط کو تسلیم کرنے کا کوئی اشارہ دیا تھا بلکہ یہ واضح کردیا گیا تھا کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا ۔ اسرائیل اور امریکہ کا تعاقب کیا جائے گا ۔ یہودی حکمران نتن یاہو کو موت کے گھاٹ اتارا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں ایک حملہ کرنے کا بھی دعوی کیا گیا ہے اور اس وقت سے نتن یاہو عوامی حلقوں میں نظر بھی نہیں آیا تھا ۔ ایران کے حوصلے اور اس کے جو عزائم تھے ان کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کی حکمت عملی کو تبدیل کیا گیا ہے اور ایک الگ طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد جب ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے اور جوابی کارروائیاں کرنے لگا تو امریکہ اور اسرائیل کو اپنی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اب ان ممالک نے اپنی خفت مٹانے اور دنیا بھر میں ہونے والی بدنامی سے نمٹنے کیلئے ایسا لگتا ہے کہ ایران کی اعلی قیادت کو یکے بعد دیگرے نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔ اپنے آلہ کار عناصر کا سہارا لیتے ہوئے ان قائدین کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ عالمی سطح پر ایران کا چہرہ بنے ہوئے سفارتکار علی لاری جانی کو شہید کردیا گیا ۔ انہیں بھی ایک طرح سے ٹارگٹ کرتے ہوئے شہید کیا گیا ہے اور پھر ایران کے انٹلی جنس کے وزیر اسمعیل خطیب کو بھی نشانہ بناتے ہوئے انہیں بھی شہید کردیا گیا ۔ ایران نے ان شہادتوں کی توثیق کردی ہے تاہم اس نے یہ واضح کردیا ہے کہ ان شہادتوں کے باوجود ایران کے رویہ میں کوئی نرمی یا لچک پیدا نہیں ہوگی بلکہ ایران ان صیہونی طاقتوں کے خلاف اپنی پوری شدت کے ساتھ لڑائی کو جاری رکھے گا ۔ ایران کا کہنا تھا کہ اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ان اموات کی وجہ سے ایران کی طاقت پر کوئی اثر پڑے گا اور جنگ کمزور ہوگی ۔ یہ حقیقت یہ کہ ایران میں کئی فوجی جنرلس شہید ہوگئے ہیں۔ فو جی اورملکی قیادت کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں لیکن ایران کی جنگ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے ۔ ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کو ہر فوجی کارروائی کا جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اورا س کے حوصلے بلند نظر آنے لگے ہیں۔
ایران جس طرح سے حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اقدامات کر رہا ہے اس کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل الجھن کا شکار ہونے لگے ہیں۔ وہ ایران کی حکمت عملی کو ایک طرح سے سمجھ نہیں پا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے کارروائی کر رہے ہیں۔ فوجی اور ملکی قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ایران کو کمزور کیا جاسکتا ہے تاہم ایسا نہیںہے ۔ ایران کو کسی لیڈر یا شخصیت کی شہادت کے ذریعہ کمزور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایران میں نظریاتی انقلاب کی اہمیت ہے اور شخصیتیں بھی نظریات کی تابع ہوتی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کو بہت جلد اس کا احساس ہوسکتا ہے ۔