چندی گڑھ : اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملے کرنے کی دھمکیوں کے دوران اگر کسی صنعت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو وہ باسمتی چاول کی ہندوستان سے برآمد کو لاحق ہے۔ یاد رہے کہ ہندوستان سب سے زیادہ باسمتی چاول ایران کو برآمد کرتا ہے تاہم 21 اکتوبر تا 21 ڈسمبر چاول کی درآمد پر وہاں عائد کی گئی پابندی کی وجہ سے باسمتی چاول کی برآمد ٹھپ پڑگئی ہے۔ اس دوران ایران کے لئے باسمتی چاول کی برآمد کے لئے انشورنس کمپنیوں نے انشورنس دینا بھی بند کردیا ہے۔ لہذا باسمتی چاول کی قیمتوں میں فی کوئنٹل 800 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ قبل ازیں چاول کی جتنی مقدار خریدی جاتی تھی اب وہ مقدار نہیں خریدی جارہی ہے جس سے کسانوں کو بھی تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ دوسری طرف جاریہ سال کسانوں کو 15 فیصد زائد فصل کی پیداوار کی امید ہے لیکن جب کوئی خریدار ہی نہیں ہوگا تو ان کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی، خصوصی طور پر پنجاب میں باسمتی چاول پیدا کرنے والے کسانوں کے لئے بڑی آزمائش ہوگی۔ ہندوستان دنیا میں باسمتی چاول کا سب سے بڑا برآمد کار ملک ہے۔ 2023-24 میں ہندوستان نے 5,242,048,39 میٹرک ٹن باسمتی چاول برآمد کیا جس کا تخمینہ 48,389.18 کروڑ روپے ہے جس میں صرف پنجاب سے ہی 40 فیصد باسمتی چاول برآمد کئے گئے۔