ایس آئی آر ‘ شفافیت کیوں نہیں ؟

   

جس وقت سے ملک کی مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہوا ہے اس وقت سے ہی اس عمل کے شفاف نہ ہونے کی شکایات عام ہوگئی ہیں۔ کئی گوشوں کا ‘ خود ملک کے عوام کا اور سیاسی جماعتوں کا یہ دعو ی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملہ میں من مانی انداز اختیار کیا جا رہا ہے اور خود عوام کو بھی کئی معاملات میں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور کچھ تنظیمیں اس معاملے میں عدالتو ں سے بھی رجوع ہوئی ہیں اور عدالتوں کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن کو وقفہ وقفہ سے کچھ ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔ ریاست مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تعلق سے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے خود ملک کے چیف جسٹس نے کمیشن سے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل فطری انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے کیا جانا چاہئے اور یہ عمل انتہائی شفافیت کے ساتھ کیا جانا چاہئے ۔ حقیقت یہی ہے کہ اگر ایس آئی آر کیا ہی جانا ضروری ہے تو کیا جائے تاہم اس معاملہ میں مکمل شفافیت برتی جانی چاہئے ۔ سب سے پہلے ریاست بہار میں ایس آئی آر ہوا تھا اور اس دوران کئی ایسے افراد بھی زندہ سامنے آئے جن کے تعلق سے الیکشن کمیشن نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ فوت ہوچکے ہیں۔ بے شمار افراد زندہ سپریم کورٹ بھی پہونچ گئے تھے اور انہیں کانگریس لیڈر و قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا تھا ۔ الیکشن کمیشن نے اس انتہائی سنگین غلطی کا بھی ازالہ ٹھیک ڈھنگ سے نہیں کیا تھا اور کچھ دوسرے گوشوں نے تو اس کا مذاق بھی بنادیا تھا اور زندہ افراد کے دعوے کو خاطر میں نہیں لایا گیا تھا ۔ یقینی طور پر ملک میں نقائص سے پاک ووٹر لسٹ ہونی چاہئے اور کوئی نا اہل فرد اس میں شامل نہیں ہونا چاہئے تاہم اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ بھی ضروری یہ ہے کہ کوئی اہلیت رکھنے والا فرد کسی بھی وجہ سے ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہونے پائے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ایس آئی آر کا عمل ‘چاہے ملک کی کسی بھی ریاست میں کیا جائے ‘ پوری شفافیت کے ساتھ کیا جائے ۔ ایس آئی آر کے سکی بھی پہلو کو ملک کے عوام یا سیاسیی جماعتوں سے پوشیدہ نہیں رکھا جانا چاہئے اورنہ ہی اسے چھپایا جانا چاہئے ۔
آج جس طرح سے سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ ایس آئی آر کا عمل شفافیت کے ساتھ کیوں نہیں کیا جا رہا ہے تو یہ بہت اہمیت کا حامل سوال ہے ۔ ایس آئی آر کا عمل اہمیت کا حامل ہے اسی لئے اس میں کسی بھی طرح کی معمولی سے بھی کوتاہی نہیں کی جانی چاہئے ۔ اس کے علاوہ یہ ملک کے کروڑوں عوام کے حقوق کا بھی سوال ہے تو اس کیلئے مناسب وقت بھی دیا جانا چاہئے ۔ جہاں تک الیکشن کمیشن کا سوال ہے تو یہ بالکل ہی کم اور مختصر سے وقت میں یہ کام انجام دے رہا ہے اور بی ایل اوز پر دباؤ بنایا جا رہا ہے ۔ ایسے میں بی ایل اوز ٹھیک طرح سے کام نہیں کر پا رہے ہیں اور عوام کا نقصان ہو رہا ہے ۔ حقیقی ووٹرس کی حق تلفی ہو رہی ہے اور ان کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو رہے ہیں۔ اترپردیش جیس ریاست میں تقریبا تین کروڑ افراد کے نام حذف کردئے گئے ہیں تو یہ ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے ۔ اگر تو حقیقی ووٹرس کے نام حذف ہوئے ہیں تو یہ بھی یہ مسئلہ سنگین ہے اور دوسری جانب اگر واقعی یہ فرضی نام تھے تو انتخابات کی اہمیت و افادیت پر سوال پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے اور ملک میں حقیقی معنوں میں عوامی منتخب حکومتوں کا قیام عمل میں آنا ہے تو ایسی خامیوں کو دور کیا جانا چاہئے اور یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب یہ عمل درکار وقت میں پورا کیا جائے اور اس میں مکمل شفافیت برتی جائے ۔ تمام امور کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور انہیں ہر ہر عمل کی تفصیل سے مکمل واقفیت فراہم کی جائے ۔
ملک کی کچھ ریاستوں میں ایس آئی آر کاعمل ہوچکا ہے اور کئی ریاستوں میں یہ عمل ہونے بھی والا ہے ۔ ایسے میں اس عمل کو پوری طرح سے شفاف ہونے کی ضرورت ہے ۔ کمیشن کو اڈھاک بنیادوں پر یا چل چلاؤ والا انداز اختیار کئے بغیر کسی بھی گوشے کے دباؤ سے آگے بڑھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ حکومت ہی کا دباؤ کیوں نہ ہو ۔ یہ ملک کی جمہوریت کا سوال ہے اور اس کا تحفظ کرنا ہر کسی کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ الیکشن کمیشن کو کم از کم اب اپنے عمل پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے اور سارے عمل میں شفافیت لانے کیلئے موثر اور جامع اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ نقائص سے پاک ووٹر لسٹ تیار ہوسکے ۔