ایس آئی آر ‘ ممتابنرجی کی جدوجہد

   

ہم پرچمِ قومی کو لہرا کے ہمالہ پر
دشمن کی حکومت کے جھنڈے کو جھکادیں گے
ملک کی مختلف ریاستوںمیںایس آئی آر کا عمل کیا گیا ہے اور کچھ ریاستوںمیں یہ عمل شروع ہونے والا ہے ۔ کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی تھی اور اس کو منظز انداز میںووٹوںکوحذف کرنے کی مہم قرار دیا گیا تھا ۔ کچھ گوشوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں بھی اس کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں تاہم سپریم کورٹ کی سماعت کے باوجود وہ کچھ نتائج برآمد نہیںہوئے جس کیلئے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بھی الیکشن کمیشن کا موقف غیر اطمینان بخش ہی رہا ہے ۔ جس طرح سے ایس آئی آر کا عمل جاری ہے اور جس طرح سے لاکھوں کی تعداد میں ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے جا رہے ہیں وہ قابل تشویش امر ضرور ہے اور اس کی یکسوئی کی جانی چاہئے ۔ ووٹر لسٹ انتہائی اہم دستاویز ہوتا ہے ۔ اسی پر ملک کی جمہوریت کے استحکام اور جمہوریت کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے اور اگر اسی میں سیاسی اغراض کی بناء پر ناموںکو شامل کیا جائے یا حذف کیا جائے تو یہ قابل تشویش بات ضرور ہے ۔ ایس آئی آر کے خلاف کئی گوشوں نے جدوجہد شروع کی تھی اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع ہوئے تھے ۔ جن ووٹرس کو الیکشن کمیشن نے مردہ قرار دے کر نام نکال دئے تھے وہ زندہ حالت میں سپریم کورٹ پہونچ گئے تھے اس کے باوجود اس مسئلہ کی مناسب یکسوئی نہیںہوسکی ہے ۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ مختلف گوشے اس جدوجہد سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں اور چونکہ انہیں زیادہ کچھ کامیابی نہیں مل رہی ہے اس لئے وہ بھی خاموشی اختیار کرنے لگے ہیں تاہم چیف منسٹر مغربی بنگال و ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی اس معاملہ میں سب سے آگے اور مختلف ہیںا ور وہ ایس آئی آر کے عمل میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں کوختم کرنے کیلئے لگاتار جدوجہد کر رہی ہیں اور وہ خاموش نہیں بیٹھ رہی ہیں۔ اس جدوجہد میںممتابنرجی کو صرف سابق چیف منسٹر اترپردیش و سماجوادی پارٹی سربراہ اکھیلیش یادو کی ہی تائیدو حمایت حاصل ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ دوسری جماعتیں اس معاملے میںممتابنرجی کی اتنی تائید و حمایت نہیں کر رہی ہیں جتنی کرنی چاہئے تھی۔
ممتابنرجی اس کے باوجود اپنی جدوجہد کو جاری رکھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے تنہا اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا یہ اور اس جدوجہدکو وہ سپریم کورٹ تک لے کر پہونچ گئی ہیں۔ یہ شائد آزاد ہندوستان کی تاریخ میںپہلی مرتبہ ہوا کہ کسی ریاست کی موجودہ چیف منسٹر نے اپنے موقف کو پیش کرنے خود عدالت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے وکلاء کی مدد سے عدالت میں خود بحث کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ممتابنرجی کس طرح سے اپنی جدوجہد کو جاری رکھی ہوئی ہیں اور وہ اس کو کسی بھی قیمت پر آگے بڑھانے سے گریز کرنا نہیں چاہتیں۔ ایس آئی آر کے تعلق سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی اسے اپنے سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کر رہی ہے اورملک کی مختلف ریاستوں میں لاکھوں نہیںبلکہ کروڑوں افراد کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ اترپردیش جیس ایک ہی ریاست میں تقریبا تین کروڑ نام فہرست سے حذف کئے جانے والے ہیں۔ اسی طرح کئی اور ریاستوں میں کروڑوں افراد کے ناموںکو حذف کیا جا رہا ہے ۔ ترنمول کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کا عمل فہرست رائے دہندگان میں عوام کے نام شامل کرنے کیلئے نہیں بلکہ نام حذف کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے اور یہ ایک ایسا پہلو ہے جس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی بھی اہل ووٹر ایسا نہ رہنے پائے جس کا نام فہرست سے خارج کردیا جائے ۔ یہ ایک انتہائی اہمیت کا حامل پہلو ہے ۔
ایس آئی ار کے عمل کو جس طرح سے الیکشن کمیشن من مانی انداز میں آگے بڑھا رہا ہے اس سے تشویش اور اندیشے لاحق ہونے لازمی بات ہیںاور اسی بات کو ممتابنرجی اجاگر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کی جدوجہد کو دیگر تمام اپوز یشن جماعتوں کی بھی بڑھ چڑھ کر تائید کرنی چاہئے اور عدالتوں میں موثر پیروی کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی اس تعلق سے شعور بیدارکرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام بھی اس معاملے میں سرگرم رول ادا کریں اور ایس آئی آر کے عمل کو محض ووٹوںکو حذف کرنے تک محدود نہ رکھا جاسکے۔عوام میں شعور بیدار ہوجائے تو پھر یہ جدوجہد اور موثر ڈھنگ سے آگے بڑھائی جاسکتی ہے ۔