برلن ۔14 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ترک نژاد جرمن فٹ بالر میسوت اوزل نے چین میں ایغور مسلم کمیونٹی کے بارے میں زبان نہ کھولنے پر مسلم ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جرمن قومی فٹ بال ٹیم کے سابق اسٹار میسوت اوزل نے چین میں اقلیتی ایغور مسلم کمیونٹی پر ہونے والے مبینہ ظلم وستم پر خاموشی اختیار کرنے پر مسلم ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ چینی صوبہ سنکیانگ میں دس لاکھ مسلمان باشندوں کو جبری طور پر ان کیمپوں میں منتقل رکھا گیا ہے۔جمعے کے دن انگلش پریمیئر لیگ کی ٹیم آرسنل کی نمائندگی کرنے والے 31سالہ اوزل کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ وہ ایغور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”قرآن نذر آتش کیا گیا۔ مسجدوں کو بند کر دیا گیا۔ مسلم اسکولوں پر پابندی لگا دی گئی۔ مذہبی رہنماؤں کو قتل کیا گیا۔ مسلم بھائیوں کو زبردستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا‘‘۔اپنے ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر اوزل نے ترک زبان میں مزید لکھا، ”مسلمان خاموش ہیں۔ ان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔‘‘ اس پیغام کے بیک گراؤنڈ میں ہلکے نیلے رنگ میں سفید ہلال نمایاں تھا۔ ایغور علیحدگی پسند اسے مستقبل کے آزاد ملک مشرقی ترکستان کا پرچم قرار دیتے ہیں۔انگلش فٹ بال ٹیم آرسنل نے خود کو اوزل کے اس بیان سے الگ کر لیا ہے۔ اس کلب کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق اوزل کا یہ بیان ذاتی نوعیت کا ہے۔ مزید کہا گیا کہ بطور ایک فٹ بال کلب آرسنل کسی قسم کی سیاسی بیان بازی کا حصہ نہیں بنتا۔