ایف ایل او نے تلنگانہ کی دم توڑتی دست کاری، ٹیلیا رومال کو عالمی سطح پر پہنچا دیا

   

حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( فیسی ) لیڈیز آرگنائزیشن (FLO) نے ٹیلیا رومال کی تاریخی تیاری کو بڑھاوا دینے پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ ہاتھ کی بنت کے اس رومال کی دست کاری کی کہا جاتا ہے کہ کبھی حیدرآباد کے امراء کی جانب سے سرپرستی کی جاتی تھی ۔ یہ بات ریتوشاہ چیرپرسن ایف ایل او نے بتائی ۔ ریتو شاہ کے ہمراہ ایف ایل او ممبرس کی ایک ٹیم نے شہر کے مضافات میں پٹاپا کا ولیج کا دورہ کیا جو اس رومال کی تیاری کے لیے مشہور ہے ۔ ریتو شاہ نے کہا کہ ’ ٹیلیا رومال کی دست کاری کو بڑھاوا دینے کے بارے میں مجھے بہت دلچسپی ہے ۔ ٹیلیا رومال دھاگے کے آئیل ٹریٹمنٹ کے لیے ایک طریقہ ہوتا ہے ۔ یہ دونوں تلگو ریاستوں کے مختلف مقامات سے حاصل ہوتا ہے ۔ ٹیلیا رومال کی تاریخ انیسویں صدی کی پرانی ہے ۔ حیدرآباد کے امراء کبھی اس آرٹ کی سرپرستی کرتے تھے ۔ حیدرآباد کے شاہی خاندان کے افراد کو کہا جاتا ہے کہ اس سے لگاؤ تھا ۔ گذشتہ دس ماہ کی ہماری لگاتار کوشش کے باعث ہم نے چھ خاتون انٹرپرئیرس کو اس جانب آمادہ کیا اور اس دست کاری ایٹم کو اس حد تک مشہور کیا کہ تلنگانہ کا ٹیلیا رومال عالمی سطح پر پہنچ گیا اور جی 20 میٹنگ میں اس کی نمائش کی گئی ‘ ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دست کاری کو پائیدار ترقی کے تھیم کے تحت اختیار کیا گیا اور یہ یونائٹیڈ نیشنس سسٹینبل ڈیولپمنٹ گولز ( UNSDGs ) کے خطوط پر ہے ۔ ہماری کاوشوں سے ہم نے حکومت تلنگانہ سے اس گاؤں کے لیے 30 لاکھ روپئے کی گرانٹ منظور کروائی ۔ اس طرح اب اس رومال کے 200 سے زائد پیسیس ملک کے کونے کونے تک پہنچ پائیں اور اس طرح اس کی اہمیت نمایاں ہوئی ہے ۔ ماضی میں ایف ایل او نے 4800 سنیٹری پیاڈس ، دوموبائل ٹائلیٹس ، سنیٹری پیاڈس وینڈنگ مشینس اور ایک انسینریٹر کا اس گاؤں میں کلکٹر کے ہاتھوں عطیہ دیا تھا ۔ ایف ایل او ممبرس نے ہفتہ کو اس گاؤں میں آرٹسٹس کے ساتھ بات چیت کی ۔ پٹاپاکا کے سرپنچ بھاسکر نے کہا کہ ’ پٹاپا کا اور کویالہ گوڑم دو دیہاتوں میں یہ کام ہوتا ہے ۔ وہ ایک ماہ میں 5 کروڑ روپئے مالیت کا ٹیلیا رومال کا کپڑا تیار کرتے ہیں لیکن خریدار نہیں ہیں ۔ انہیں مارکیٹنگ سے متعلق مدد ، ڈیزائن انٹرونیشن ، آن لائن پروموشن اور مالی مدد جو انہیں حکومت کی جانب سے سود کے بغیر قرض طور پر دینے کی ضرورت ہے ۔ تقریبا ایک ہزار خاندانوں کا دست کاری پر انحصار ہے ‘ ۔۔