برلن : جرمنی اور قطر کے درمیان طویل مدتی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کے معاہدہ پر بات چیت میں دونوں فریقوں کومشکلات کا سامنا ہے اور ان کے درمیان اختلافی امور طے نہیں کیے جاسکے۔ بعض جرمنی 2040 تک اپنے کاربن کے اخراج میں 88 فی صد کمی کرنا چاہتاہے اور وہ روس سے درآمدہ گیس پر انحصار کم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پرایل این جی کی خریداری کے معاہدوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ وہ اس ضمن میں کم سے کم 20 سال کیلئے معاہدہ طے کرنا چاہتا ہے مگر ان پر قطر کی شرائط کے مطابق دست خط کرنے سے گریزاں ہے۔قطر اس وقت دنیا میں ایل این جی کا سب سے بڑا برآمدکنندہ ملک ہے۔ وہ جرمنی سے معاہدہ میں منزل کی شق جیسی شرائط کا تعیّن کررہا ہے۔یہ شرط برلن کو یورپ کے دیگر علاقوں میں قطری گیس کی آگے ترسیل سے روک دے گی جبکہ یورپی یونین بھی اس شرط کی مخالفت کررہی ہے۔