کریڈٹ کارڈ بلنگ، منی ٹرانسفر اور ٹرین ٹکٹ کی بکنگ کے اصول بدلنے کا عوام کی جیب پر اثرہوگا
نئی دہلی : ہندوستان میں کئی اہم اصول اور ضوابط میں یکم نومبر 2024 سے تبدیلیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں جن کا براہ راست اثر عوام کی جیبوں پر پڑنے کا امکان ہے۔ یہ تبدیلیاں ایل پی جی کی قیمتوں، سی این جی اور پی این جی کے نرخ، کریڈٹ کارڈ بلنگ، منی ٹرانسفر، ٹرین ٹکٹ کی بکنگ کے اصول اور بینکوں کی چھٹیوں کے متعلق ہیں۔یکم نومبر سے پیٹرولیم کمپنیاں روایتی طور پر ایل پی جی کی قیمتوں میں ترمیم کرتی ہیں۔ اس تبدیلی میں سب سے زیادہ اثر گھریلو اور کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اس بار بھی لوگ توقع کر رہے ہیں کہ 14 کلو والے گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے جو طویل عرصے سے مستحکم ہیں۔ دوسری طرف 19 کلو والے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں جولائی کے بعد مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس بار بھی قیمت میں اضافہ کا امکان ہے۔ایل پی جی کے ساتھ ساتھ سی این جی، پی این جی اور ایئر ٹربائن فیول کے نرخوں میں بھی ہر ماہ تبدیلی کی جاتی ہے۔ سی این جی اور پی این جی کے نرخ بھی عوامی نقل و حمل اور گھریلو استعمال پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور ان میں کسی بھی تبدیلی سے متعلقہ اخراجات میں اضافہ یا کمی واقع ہو سکتی ہے۔اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے یکم نومبر سے، ایس بی آئی کے ان سکیورڈ کریڈٹ کارڈز پر ماہانہ 3.75 فیصد فائنانس چارج وصول کیا جائے گا۔ یہ نئی شرائط عوام کے ماہانہ اخراجات پر اثر انداز ہوں گی ۔ریزرو بینک آف انڈیا نے منی ٹرانسفر (رقم کی منتقلی) کے لئے نئے اصول نافذ کیے ہیں جو یکم نومبر 2024 سے لاگو ہوں گے۔ ان اصولوں کا مقصد مالیاتی چینلز کو محفوظ بنانا ہے تاکہ دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔ ان نئے اصولوں سے روزمرہ بینکنگ میں مزید سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔ اس تبدیلی کے تحت ہر بینک اور مالیاتی ادارہ منی ٹرانسفر کے اصولوں میں سختی کرے گا۔یکم نومبر سے ٹرین ٹکٹ ایڈوانس ریزرویشن پیریڈ (اے آر پی) کو 120 دن سے کم کر کے 60 دن کر دیا جائے گا۔ اس کا مقصد عوام کے لئے بکنگ کے نظام کو آسان بنانا ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو اکثر سفر کرتے ہیں اور بکنگ کی لمبی مدت کے انتظار کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس نئی پالیسی کے مطابق اب لوگ زیادہ جلدی ٹکٹ بک کر سکیں گے اور ایڈوانس بکنگ کی مدت کو محدود کرنے سے دیگر صارفین کیلئے بھی ٹکٹ حاصل کرنے کے مواقع بڑھیں گے۔