ایم ایل سی الیکشن میں 21 ہزار سے زائد ووٹ ناکارہ قرار دئے گئے

   

تعلیم یافتہ رائے دہندوں کی غلطیاں باعث حیرت، ووٹ کے استعمال کے طریقہ کار سے عدم واقفیت کا نتیجہ
حیدرآباد۔ گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشست کیلئے رائے دہندہ کا گریجویٹ ہونا ضروری ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ حالیہ الیکشن میں 21000 سے زائد ووٹ مسترد کئے جاچکے ہیں۔ گریجویٹ رائے دہندہ سے رائے دہی میں غلطی کی تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے لیکن 21 ہزار سے زائد ووٹوں کا مسترد ہونا گریجویٹ کی قابلیت پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر حلقہ کی رائے شماری کے دوران پہلے ترجیحی ووٹ کی گنتی تک 21309 ووٹ مسترد کئے گئے جبکہ 3.58 لاکھ رائے دہندوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ 1192 پوسٹل بیالٹ میں سے 103 ووٹ مسترد کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر مسترد کردہ ووٹ امیدواروں کے آگے ٹِک کا نشان لگانے یا پھر نام پر گھیرا بنانے کے معاملات سے متعلق ہے۔ الیکشن کمیشن کے طریقہ کار کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر امیدواروں کو ہندسوں میں ووٹ دیا جانا چاہیئے۔ رائے دہی کے طریقہ کار سے واقف کرانے کے باوجود 21 ہزار سے زائد ووٹوں کا مسترد ہونا باعث حیرت ہے۔ جب گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ رائے دہندے اس طرح کی غلطی کرسکتے ہیں تو پھر عام رائے دہندوں کا کیا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی رائے دہندوں نے ترجیحی نمبر دینے کے بجائے ٹِک کا کا نشان لگایا جس کے نتیجہ میں ووٹ کو مسترد کردیا گیا۔ بعض صورتوں میں رائے دہندوں نے امیدوار کے نام پر حلقہ بناتے ہوئے اسے ترجیحی ووٹ قرار دینے کی کوشش کی ۔ بعض رائے دہندوں نے امیدوار کے نام کے آگے دستخط کئے حالانکہ انہیں ہندسوں کے اعتبار سے ووٹ کا استعمال کرنا تھا۔ بعض رائے دہندوں نے ایک ہی ہندسہ کا کئی امیدواروں کیلئے استعمال کیا۔ رائے شماری کے موقع پر موجود جی ایچ ایم سی کے عہدیدار نے کہا کہ معمولی غلطیوں کے نتیجہ میں کئی ہزار ووٹ مسترد ہوگئے۔ 52 ایسے آزاد امیدوار تھے جنہیں 100 سے بھی کم ووٹ حاصل ہوئے جبکہ29 امیدواروں کو 500 سے کم اور 2 امیدواروں کو ایک ہزار سے کم ووٹ حاصل ہوئے۔ پہلے دن کی رائے شماری کے بعد کاؤنٹنگ ہال میں صرف مسلمہ سیاسی جماعتوں کے کاؤنٹنگ ایجنٹس موجود رہے جبکہ آزاد امیدواروں کا کوئی ایجنٹ نہیں تھا۔