ایم ایل سی امیدواروں پر کانگریس کا سرگرم غور ۔ دہلی میں اہم قائدین کا اجلاس

,

   

l ایم ایل اے کوٹہ اور گورنر کوٹہ کے دو دو امیدواروں کو قطعیت کا امکان
l مسلم قائد کو ایم ایل سی بنا کر وزارت میں شامل کرنے کی تیاری
l نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے بھی مختلف سطح پر مشاورت کا سلسلہ جاری

حیدرآباد ۔ 13 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ کے ایم ایل سی انتخابات پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے ۔ کل شام کو دہلی پہونچنے والے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج مصروف ترین دن گذارا اور پارٹی کے اہم قائدین سے ملاقاتیں کیں۔ آج شام کانگریس صدر ملکاارجن کھرگے کی قیام گاہ پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں راہول گاندھی ، تلنگانہ کانگریس امور کی انچارج دیپا داس منشی چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر ملو بٹی وکرامارک کے علاوہ دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس کے بعد کانگریس ایم ایل سی امیدواروں کا سرکاری طور پر اعلان کرنے کے قوی امکانات ہیں ۔ پارٹی ذرائع سے پتہ چلا کہ ایم ایل اے کوٹہ کے دو اور گورنر کوٹہ کے دو ایم ایل سی ارکان کے انتخاب کیلئے کانگریس میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔ ایم ایل اے کوٹہ کے دو نشستوں کیلئے انتخابات کیلئے اعلامیہ جاری ہوگیا ہے۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 18 جنوری مقرر کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ گورنر کوٹہ کے دو کونسل نشستوں کیلئے صرف کابینہ میں منظوری اور حکومت کی جانب سے ناموں کو سفارش کافی ہے ۔ واضح رہے کہ 14 جنوری کو منی پور سے راہول گاندھی کی پدیاترا شروع ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ 14 جنوری کی نصف شب کو چیف منسٹر ڈاؤس کیلئے روانہ ہورہے ہیں ۔ اس لیے آج کھرگے کی قیام گاہ پر اجلاس کو کافی اہم تصور کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی 21 جنوری کو تلنگانہ پہونچ رہے ہیں ۔ اس لیے ایم ایل اے کوٹہ کے دو کونسل نشستوں کیلئے آج امیدواروں کو قطعیت دینے کے قوی امکانات ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس سے ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے کابینہ میں مسلم چہرے کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے تاہم کانگریس نے لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہے ۔ اس لیے ایک مسلم قائد کو ایم ایل سی بناتے ہوئے انہیں وزارت میں شامل کرنے کی پوری تیاری کرلی گئی ہے ۔ کانگریس کے کئی قائدین ایم ایل سی کی دوڑ میں شامل ہیں مگر قطعی فیصلہ راہول گاندھی کا ہوگا ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ چیف منسٹر نے کانگریس کے سیاسی حکمت عملی ساز سنیل کنگولو اور کانگریس کی امور دیپا داس منشی سے پہلے علحدہ ملاقات کی ہے ۔ اس کے بعد تلنگانہ بھون میں ریونت ریڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر ملو بٹی وکرامارک نے تنہائی میں ایک گھنٹہ تک ملاقات کرکے ایم ایل سی دعویداروں کے ناموں پر غور کیا ہے ۔ کس کو امیدوار بنانے سے پارٹی کو کیا فائدہ ہوگا اور یہ امیدوار کانگریس کیلئے لوک سبھا انتخابات میں کتنا معاون ہوگا اس کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ بعد ازاں ریونت ریڈی نے کانگریس قومی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال سے ملاقات کی اور تلنگانہ کی تازہ سیاسی صورتحال اور ایم ایل سی ، انتخابات کے علاوہ پارٹی کے نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے بھی تبادلہ خیال کیا ہے ۔ پارٹی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایک مسلم قائد کو امیدوار بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ مسلم چہرے کی سماج میں اہمیت کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ کانگریس ہائی کمان ایک طرف تلنگانہ کانگریس قائدین سے تبادلہ خیال کررہی ہے ۔ دوسری طرف چیف منسٹر کے علاوہ پارٹی کے دوسرے قائدین کی جانب سے جن ناموں کی سفارش کی جارہی ہے اس کا راہول گاندھی کی ٹیم سروے بھی کررہی ہے ۔ مختلف رپورٹس اور سفارشات کو سامنے رکھ کر کانگریس کو فائدہ پہونچانے والے قائدین کو امیدوار بنانے کا جائزہ لیا جارہا ہے کیونکہ آج کے بعد راہول گاندھی دستیاب نہیں ہونگے ۔ اس کے علاوہ راہول گاندھی ، ملکا ارجن کھرگے ، کے سی وینوگوپال اور ریونت ریڈی علحدہ طیاروں میں منی پور پہونچ رہے ہیں ۔ ایک ساتھ تمام قائدین کی عنقریب ملاقات کے امکانات کم ہیں اس لیے آج کے اجلاس میں ناموں کو قطعیت دینے کے قوی امکانات ہیں ۔ 2