ایم ایل سی کویتا سیاست میں دوبارہ سرگرم

   

تلنگانہ جاگروتی کارکنوں کے ساتھ اجلاس ، بی سی طبقات کی نمائندگی کو مضبوط کرنے پر زور
نظام آباد۔23 نومبر ۔ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) رُکن قانون ساز کونسل نظام آباد کے کویتا نے سرگرم سیاست کی شروعات کردی ہے۔ جیل سے رہائی کے بعد گزشتہ چند دنوں سے گھر تک محدود اور ناسازی طبیعت کی وجہ سے خاموشی اختیار کی ہوئی تھیں لیکن حالات کا جائزہ لیتے ہوئے دوبارہ سرگرم سیاست میں حصہ لینے کے لیے عملی طور پر شروعات کر چکی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے ریاستی حکومت کے قائم کردہ بی سی ڈیڈیکیٹڈ کمیشن کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائیگی۔ یہ رپورٹ ذات پات کے سروے اور مقامی ادارہ جات کے انتخابات میں پسماندہ طبقات (بی سیز) کے لئے ریزرویشن میں اضافے کی ضرورت پر مرکوز ہوگی۔صدرتلنگانہ جاگروتی و رکن قانون ساز کونسل کے کویتا، تلنگانہ جاگروتی کے رہنمائوں کے ساتھ جلد ہی کمیشن کے چیئرمین وینکٹیشور راؤ کو یہ رپورٹ پیش کریں گی۔اس ضمن میں رکن کونسل کویتا نے اپنی رہائش گاہ پر تلنگانہ جاگروتی کے ر ہنمائوں اور اہم کارکنوں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ تلنگانہ جاگروتی پہلے ہی تمام اضلاع میں گول میز کانفرنسوں کا انعقاد عمل میں لا چکی ہے تاکہ ذات پات کے مردم شماری اور لوکل باڈیز میں بی سیز کے لیے ریزرویشن میں اضافے پر رائے حاصل کی جا سکے۔ ان کانفرنسوں میں بی سی تنظیموں کے رہنما ئوں ، دانشور، صحافی اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی اور اپنی آراء پیش کیں۔ ان مشاورتوں کی بنیاد پر تلنگانہ جاگروتی نے ایک جامع ضلع وار رپورٹ تیار کی جس میں بی سی رہنمائوں، ماہرین تعلیم، دانشوروں اور دیگر ماہرین کی رائے شامل کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایل سی کویتا نے اس بات پر زور دیا کہ سماج کے کمزور طبقے، خاص طور پر بی سیز، اب بھی تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں ناکافی نمائندگی کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اس خلا کو پورا کریں اور پسماندہ طبقات کو آگے لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔کویتا نے مزید کہا کہ بی سیز کی سیاسی نمائندگی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ سابق ایم پی کے کویتا نے کانگریس کی زیر قیادت ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک منظم ذات پات کا سروے کرے اور مقامی ادارہ جات میں ریزرویشن میں اضافہ کرے تاکہ بی سی طبقات کے مسائل حل کرنے میں اپنی سنجیدگی ثابت کرے۔