جلسہ گاہ اور پارٹی دفتر پر بھاری پولیس متعین ، پولیس کے رویہ پر امجد اللہ خالد کی تنقید
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : پرانے شہر چنچلگوڑہ میں آج اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب ایم بی ٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے احتجاج منظم کیا۔ مجلس بچاؤ تحریک کے جلسہ ملی بیداری کو پولیس سے اجازت نہ دئیے جانے پر کارکنان برہم تھے ۔ ایم بی ٹی کارکنوں کی کثیر تعداد اور برہمی کو دیکھتے ہوئے صدر دفتر چنچل گوڑہ پر بھاری پولیس جمعیت کو طلب کرلیا گیا تھا اور اعلیٰ پولیس عہدیدار ایم بی ٹی دفتر پہونچے ۔ صدر مجلس بچاؤ تحریک مجید اللہ خاں فرحت اور پارٹی ترجمان امجد اللہ خاں خالد کی امکانی گرفتاری کی اطلاع پر کارکن اور عوام بے چین ہوگئے اور پارٹی دفتر پرا مڈ پڑے ۔ پولیس نے ہجوم کو بتایا کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا بلکہ جلسہ کی اجازت نہیں دی گئی جس کی کچھ وجوہات ہیں ۔ تاہم ایم بی ٹی کے صدر دفتر اور آس پاس پولیس کی گشت بڑھادی گئی اور بھاری جمعیت کو ہر راستہ پر متعین کردیا گیا ۔ واضح رہے کہ آج شام یاقوت پورہ بڑا بازار میں جلسہ ملی بیداری کی وسیع تر تیاریاں کرلی گئیں تھیں تاہم عین وقت اجازت نہ دینے پر پارٹی کارکنوں نے برہمی کا اظہار کیا اور زبردست احتجاج کیا ۔ اس موقع پر پارٹی کارکنوں کو قابو میں کرتے ہوئے امجد اللہ خاں خالد نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی اور بتایا کہ پولیس کی سازش کے نتیجہ میں ایم بی ٹی کے جلسہ ملی بیداری کو اجازت نہیں دی گئی ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر پولیس ساوتھ زون پر الزام لگایا کہ ڈی سی پی نے جان بوجھ کر سازش کے تحت جلسہ کی اجازت نہیں دی اور اعلی حکام کو گمراہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 10 دن قبل جلسہ کیلئے درخواست دی گئی تھی لیکن پولیس نے کل اسے مسترد کیا ۔ امجد اللہ خاں خالد نے ڈی سی پی ‘ اے سی پی میرچوک و انسپکٹر رین بازار کے رول کو مشکوک قرار دیا اور پولیس عہدیداروں اور چیف منسٹر سے درخواست کی کہ وہ ان کی تحقیقات کروائیں جو غیر ضروری مسائل پیدا کر رہے ہیں اور مخصوص سیاسی گروہ کے ہاتھوں کٹ پتلی بن گئے ہیں۔ ع