ایندھن کی قیمتیں اور وزیر اعظم کا بیان

   

Ferty9 Clinic

ملک میں بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں پر وزیراعظم نریندر مودی نے پہلی مرتبہ بیان دیا ہے اور انہوںنے خود اپنی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اضافہ اور عوام پر عائد کئے جانے والے بوجھ کا کوئی بھی تذکرہ کرنے کی بجائے اپوزیشن ریاستوں پر ذمہ داری عائد کردی کہ وہ ویاٹ میں کمی کرتے ہوئے اپنی اپنی ریاست کے عوام کو راحت پہونچائیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کئے جانے والے مختلف محاصل کے بعد ریاستوں کی جانب سے بھی پٹرولیم اشیا پرا پنی مرضی کے مطابق ویاٹ عائد کیا جاتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں عوام تک پہونچتے پہونچتے پٹرولیم اشیا کی قیمتیں انتہائی حدودکو پہونچ چکی ہیں۔ پٹرولیم اشیا کی قیمتوںمیںاضافہ کا لازمی اثر دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑھنے لگا ہے ۔ ہر شعبہ میں مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے ۔ ملک کے ہر گوشے کی جانب سے حکومت سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ پٹرولیم اشیا پر خود اپنے محاصل میں کمی کرے اور عوام کو راحت پہونچائے ۔ مودی حکومت نے نومبر میں پٹرولیم اشیا پر فی لیٹر پانچ روپئے اور ڈیزل پر فی لیٹر دس روپئے ٹیکس کٹوتی کی تھی ۔یہ سارا کچھ انتخابات میں عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے کیا گیا تھا ۔ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد پٹرولیم قیمتوں میںاضافہ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ۔ پانچ روپئے فی لیٹر کی کٹوتی کی گئی تھی لیکن دس تا بارہ روپئے فی لیٹر کا اب تک جملہ اضافہ کردیا گیا ۔ وزیراعظم نے آج اپنے بیان میںحکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کئے جانے کا تذکرہ تو ضرور کیا ہے اور خود کو شاباشی بھی دینے کی کوشش کی ہے لیکن انتخابات کے بعد کمی سے دوگنا اضافہ کردئے جانے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ سارے ملک میںفیول کی قیمتیںبڑھتی جا رہی ہیںاور مرکزی حکومت اپوزیشن کے اقتدار والی صرف چند ریاستوں میںریاستی حکومتوں پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے ایک طرح سے پٹرولیم اشیا کی قیمتوں پر بھی سیاست کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن کی حکومتوں کے تعلق سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے اور خود سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں وفاقیت کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ملک نے کورونا کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے ۔ ایسے میں مرکزی حکومت سے سبھی ریاستوں کو تعاون کرنا چاہئے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کورونا کی جنگ بہت طویل رہی ہے لیکن یہ جنگ مرکزی حکومت نے نہیں لڑی ہے بلکہ ملک کے عوام نے اپنے طور پر خود یہ جنگ لڑی ہے اور جیتی بھی ہے ۔ اس جنگ میں ملک کے عوام جس حد تک متاثر ہوئے ہیںاس کا اندازہ حکومت بالکل بھی نہیںکرسکتی ۔ حکومت کی جانب سے عوام کو دواخانے میں بستر تک دستیاب نہیں کروائے گئے اور نہ ہی آکسیجن سربراہ کی گئی ۔ حد تو یہ ہے کہ عوام کو اپنے افراد خاندان کی استھیاں جلانے کیلئے لکڑی بھی دستیاب نہیں کروائی گئی ۔ لوگ گنگا کے کنارے ریت میں اپنے افراد خاندان کی نعشوں کو دبانے پر مجبور ہوگئے ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے پانچ کیلو راشن دیا جا رہا ہے ۔ یہ راشن سارے ملک کے عوام کے پیسوں سے دیا جا رہا ہے ۔ عوام سے پٹرول پر جو لوٹ مچائی جا رہی ہے اس کے ذریعہ راشن دیا جارہا ہے لیکن اس کا سہرا مرکزی حکومت اور وزیر اعظم خود اپنے سر پر باندھ رہے ہیں۔ اسی راشن کے سہارے انتخابات میں کامیابی حاصل کی جا رہی ہے ۔ اسی راشن کے سہارے وزیراعظم کو مسیحا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور ان کی تشہیر کی جا رہی ہے ۔
جس طرح سے وفاقی تعاون و اشتراک کی بات کی جا رہی ہے اسی طرح یہ واضح نہیں کیا جا رہا ہے کہ مختلف ریاستوں سے جی ایس ٹی اور دوسرے محاصل کے ذریعہ مرکز کو جو فنڈز فراہم کئے گئے ہیں ان کے ذریعہ فلاحی اسکیمات چلائی جا رہی ہیں۔ یہ واضح نہیں کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی کو چندہ دینے اور انتخابات میںمدد کرنے والے کارپوریٹس کے ہزارہا کروڑ روپئے کے قرض معاف کئے جا رہے ہیں ۔ راشن کی تقسیم سے لے کر پٹرول کی قیمتوں میں کمی و بیشی کو محض انتخابات تک محدود کردیا گیا ہے ۔ پٹرول و ڈیزل قیمتوں میں کمی کی ذمہ داری مرکز کی ہے ۔ کارپوریٹس کے قرض معاف کرنے کی بجائے ان پر بوجھ عائد کیا جائے اور عوام پر محاصل کو کم کیا جائے ۔ اس بعد ہی ریاستوں کو درس دیا جاسکتا ہے ۔