بی آر ایس کے خلاف جارحانہ موقف کی ہدایت، لوک سبھا چناؤ میں بہتر مظاہرہ کی حکمت عملی
حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے بہتر مظاہرہ کیلئے اپوزیشن بی آر ایس سے نمٹنے میں جارحانہ موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بی آر ایس ارکان ہریش راؤ اور کڈیم سری ہری کی جانب سے حکومت پر سخت حملوں کے بعد ایک مرحلہ پر حکومت دفاعی موقف میں دکھائی دے رہی تھی ۔ نلگنڈہ میں کامیاب جلسہ عام اور بی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ کی عوام کے درمیان آمد سے بی آر ایس قائدین اور کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے۔ دوسری طرف چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ارکان اسمبلی کو میڈی گڈہ بیاریج کے نقصانات کا معائنہ کراتے ہوئے آبپاشی پراجکٹس میں بے قاعدگیوں کو عوام میں بے نقاب کرنے کی مساعی کی ہے ۔ اسمبلی میں بی آر ایس کی تنقیدوں کے بعد چیف منسٹر نے وزراء اور ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے انہیں جارحانہ موقف اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی نے ارکان اسمبلی سے کہا کہ ایوان میں بی آر ایس کی کسی بھی تنقید کا برسر موقع منہ توڑ جواب دیا جائے۔ چیف منسٹر نے ’’اینٹ کا جواب پتھر سے‘‘ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے ریاستی وزراء کو مشورہ دیا کہ وہ مباحث کے دوران وقفہ وقفہ سے مداخلت کرتے ہوئے بی آر ایس کے الزامات کا جواب دیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے طئے شدہ حکمت عملی کے بعد قانون ساز اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کو اظہار خیال کا بہت کم موقع دیا جارہا ہے اور اپوزیشن کے کسی الزام کی صورت میں وزراء اور ارکان اسمبلی جوابی حملہ کر رہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے خود بی آر ایس کے خلاف مورچہ سنبھال لیا ہے۔ اسمبلی اور اس کے باہر اپنی تقاریر میں ریونت ریڈی سابق بی آر ایس حکومت کی بے قاعدگیوں کا نہ صرف حوالہ دے رہے ہیں بلکہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف سخت ریمارکس کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لوک سبھا الیکشن تک کانگریس کا جارحانہ موقف برقرار رہے گا اور حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے خلاف مقدمات بھی درج کئے جاسکتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کالیشورم کے علاوہ سابق حکومت کے کئی پراجکٹس میں دھاندلیوں کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ 1