این آئی اے عدالت نے9 ملزمان کی عدالتی تحویل 13 جولائی تک بڑھا دی

   

لال قلعہ کار بم دھماکہ
نئی دہلی، 6 جولائی (آئی اے این ایس) لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کے مقدمے میں خصوصی این آئی اے عدالت نے نو ملزمان کی عدالتی تحویل میں 13 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔ عدالت اسی روز تفتیشی ایجنسی کی جانب سے پیش کی گئی فرانزک رپورٹ کا بھی جائزہ لے گی، جس میں دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے اعضا کے تجزیے کی تفصیلات شامل ہیں۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت 13 جولائی کو تمام ملزمان کے خلاف دائر چارج شیٹ پر بھی غورکر سکتی ہے۔ این آئی اے نے فرانزک رپورٹ تفصیلی سائنسی تجزیے کے بعد عدالت میں جمع کرائی ہے۔ یاد رہے کہ 27 جون کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے 10 نومبر 2025 کو لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کے سلسلے میں ایک مفرور سمیت تین مزید افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ دائر کی تھی۔ اس حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ضمنی چارج شیٹ میں جموں و کشمیر کے رہائشی ضمیر احمد آہنگر، طفیل احمد بھٹ اور مظفر احمد عرف فراز عرف ظفرکو ملزم نامزد کیا گیا۔ ان تینوں کے شامل ہونے کے بعد مقدمے میں چارج شیٹ کیے گئے ملزمان کی تعداد 13 ہوگئی ہے، جن میں مرکزی ملزم عمر النبی بھی شامل ہے، جو دھماکے کے دوران کار میں ہی ہلاک ہوگیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق مفرور ملزم مظفر احمد، جو پیشے کے اعتبار سے بچوں کا ڈاکٹر (ایم بی بی ایس، ایم ڈی) ہے، شریک ملزم عدیل احمد راتھرکا بڑا بھائی اور اے جی یو ایچ انٹرم نامی دہشت گرد تنظیم کا بانی رکن ہے، جو القاعدہ سے منسلک ایک شاخ بتائی جاتی ہے۔ تحقیقات کے مطابق مظفر احمد، عمر، مزمل، عدیل اور مفتی عرفان کے ساتھ مل کر اس حملے کی سازش تیارکی۔