گوہاٹی ۔ 5 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) قومی صدر کل ہند متحدہ جمہوری محاذ اور آسام کے رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے این آر سی کی قطعی فہرست کے اجراء پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ این آر سی کی فہرست کی اشاعت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے اظہارتشکر بھی کیا جس کی زیرنگرانی یہ کام انجام پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ 40 سال سے حل نہیں ہوسکا تھا۔ مولانا اجمل نے کہا کہ 30 تا 40 سال سے ریاست آسام اور مرکزی حکومت کو اس مسئلہ کی یکسوئی کی فکر ہی نہیں تھی۔ یہ مسئلہ گذشتہ 40 سالوں کے دوران غیرواضح تھا اور اشرار یہ مسلمانوں کے خلاف جھوٹی تشہیر سمجھتے تھے اور ان کے خیال میں وہ ہندوستانی نہیں تھے۔ مسلمانوں کو یقین تھا کہ وہ تمام افراد جو 24 مارچ 1971ء کے بعد آسام میں داخل ہوئے انہیں آسام معاہدہ کے مطابق ہندوستانی قرار دیا جانا چاہئے۔ یہ معاہدہ حکومت آسام یا مرکزی حکومت نے کبھی سنجیدگی سے اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو اس کی نگرانی کرنی پڑی۔ انہوں نے ان 3.11 کروڑ افراد کو مبارکباد دی جن کے نام این آر سی کی فہرست میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 19 لاکھ افراد جن کے نام اس فہرست میں موجود نہیں ہیں حقیقی شہری ہیں کیونکہ دستاویزات میں غلطیاں پائی جاتی ہیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ اپنے نام اس فہرست میں شامل کرواسکیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کی جانب سے تیقن دیا کہ وہ ہر ممکن قانونی امداد ان افراد کو فراہم کریں گے جن کے نام چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ ایسے افراد اپنی اپیل ٹریبونلس میں اندرون 120 دن داخل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس بارے میں فکر نہ کریں ۔