پھر رہے ہیں سبھی چہروں پہ نقابیں ڈالے
کس کو حالات کا آئینہ دکھایا جائے
مہاراشٹرا کی سیاست میں تیز رفتار تبدیلیوں کی امید بڑھ گئی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار کی طیارہ حادثہ میں موت نے صورتحال کو اچانک ایک ایسے مور پر لا کھڑا کردیا ہے جہاں سے کوئی بھی تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے ۔ ویسے بھی اجیت پوار حالیہ کچھ عرصہ میں یہ محسوس کر رہے تھے کہ انہیں مہاراشٹرا کے برسر اقتدار اتحاد میں حاشیہ پر لا کھڑا کردیا گیا ہے یا اس کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ اس صورتحال میں یہ اشارے ملنے لگے تھے کہ وہ بی جے پی زیر قیادت اتحاد سے ترک تعلق کرتے ہوئے دوبارہ اپنے چچا شرد پوار کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اجیت پوار نے کچھ وقت قبل مہاراشٹرا کی بی جے پی حکومت میں بدعنوانیوں کے الزامات بھی عائد کئے تھے ۔ صورتحال کچھ تبدیلی کے اشارے دینے لگی تھی کہ اچانک اجیت پوار کا طیارہ حادثہ میں انتقال ہوگیا ۔ اس اچانک افتاد نے مہاراشٹرا کی سیاست کیلئے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے اور خاص طور پر این سی پی کے گروپس کیلئے صورتحال مشکل ہوگئی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ این سی پی کے دونوں ہی گروپس ایک بار پھر اتحاد کے امکانات تلاش رہے ہیں اور بہت جلد اس تعلق سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ مہاراشٹرا میں جاری بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے فوری بعد خود اجیت پوار اور شرد پوار مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اتحاد کا اعلان کرنے والے تھے ۔ اب بھی امید کی جا رہی ہے کہ وسط فبروری تک بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے فوری بعد مہاراشٹرا کے دونوں ہی گروپس ایک ہوجائیں گے اور اس تعلق سے مشاورت کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ چونکہ خود اجیت پوار نے اس تعلق سے پہل کی تھی اور اشارے دئے تھے اس لئے کہا جا رہا ہے کہ اس عمل میں کوئی رکاوٹ فی الحال نظر نہیں آرہی ہے ۔ تاہم سیاست ہے اور اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ ایسے میں کچھ گوشوں کی جانب سے انضمام کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش بھی ضرور شروع ہوگئی ہے اور کھل کر مخالفت کرنے کی بجائے یہ کہا جا رہا ہے کہ فوری طور پر انضمام کا عمل نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کیلئے کچھ وقت لیا جانا چاہئے ۔ یہ ٹال مٹول کی پالیسی ہی اصل رکاوٹ ہوسکتی ہے ۔
اب جو اصل سوال پیدا ہونے لگا ہے وہ یہی ہے کہ متحدہ این سی پی کی قیادت کون کریگا ۔ کچھ قائدین اب بھی ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ شرد پوار ہی مکمل این سی پی کی قیادت کریں جبکہ کچھ چاہتے ہیں کہ آنجہانی اجیت پوار کی شریک حیات سنیترا پوار اس کی قیادت کریں۔ کچھ چاہتے ہیں کہ یہ ذمہ داری رکن پارلیمنٹ سپریا سولے کو دی جائے تو کچھ گوشے پرفل پٹیل کو قیادت سونپنے کی بات کر رہے ہیں۔ کئی گوشوں سے کئی نام بھی پیش کئے جا رہے ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ این سی پی کا انضمام نہ صرف پوار خاندان کیلئے اہمیت کا حامل ہوگا بلکہ اس کے نتیجہ میں مہاراشٹرا کی سیاست کا رخ بھی تبدیل ہوسکتا ہے ۔ اگر این سی پی ایک ہو جائے اور پھر وہ موجودہ دیویندر فڈنویس حکومت کی تائید کا سلسلہ جاری رکھے تو اس کے نتیجہ میں شرد پوار کے انڈیا اتحاد سے تعلقات داؤ پر لگ جائیں گے اور اگر فڈنویس حکومت کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلی جائے تو مہاوتی اتحاد سے این سی پی کے رشتہ ٹوٹ جائیں گے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو فی الحال کسی بھی نتیجہ پر پہونچتی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ اس کیلئے ضرور آئندہ پندرہ دن کا وقت اہمیت کا حامل ہوگا اور یہ انتظار صبرآزما بھی محسوس ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے بھی صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے اور یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ این سی پی کے انضمام اور مہایوتی سے دوری کے نتیجہ میں این سی پی کے ارکان اسمبلی کو توڑنے اور انحراف کیلئے اکسانے کی کوشش ضرور ہوسکتی ہے ۔ اس کام میں بی جے پی بہت مہارت رکھتی ہے اور کئی مواقع پر اس نے ایسا کیا بھی ہے ۔
این سی پی کا انضمام اگر ہوتا ہے تو مہاراشٹرا کی سیاست میں تبدیلی ہر دو صورت میں لازم ہے ۔ چاہے حکومت میں برقراری کا فیصلہ کیا جائے یا حکومت سے دوری کا فیصلہ کیا جائے ۔ کسی ایک فریق کے ساتھ ہوتے ہوئے دوسرے فریق سے ترک تعلق کرنا ضروری ہوجائے گا ۔ اس صورتحال میں سب سے اہم ذمہ داری نئی قیادت کی ہوگی ۔ جو کوئی این سی پی کی قیادت سنبھالے گا یا سنبھالیں گی ان پر پارٹی کو عوام کی توقعات کے مطابق آگے بڑھانے کی ذمہ داری ہوگی اور یہ کام پوار خاندان ہی بہتر ڈھنگ سے کرسکتا ہے ۔ اسی بات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے دونوں ہی گروپس کو مستقبل کے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔