عدالت عالیہ میں آج رام جنم بابری مسجد زمین تنازعہ معاملے پر سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران درخواست گزار گوپال سنگھ نے کورٹ سے کہا کہ اس مسئلے میں ثالثی کام نہیں کر رہی ہے، ایسے میں سپریم کورٹ کو ہی کوئی فیصلہ سنانا چاہئے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے ثالثی کا وقت دیا، اس کی رپورٹ آنے میں ابھی وقت ہے۔ اب اس معاملہ میں اگلی سماعت 25 جولائی کو ہو گی۔
چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیر صدارت آئینی بینچ نے ثالثی کمیٹی سے اس مسئلہ پر رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ پینل کو یہ رپورٹ آئندہ جمعرات تک سپریم کورٹ میں جمع کرنا ہو گی۔ اب اس معاملہ پر اگلی سماعت 25 جولائی کو ہو گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر پینل کہتا ہے کہ ثالثی کارگر نہیں ثابت ہوتی ہے تو 25 جولائی کے بعد کھلی عدالت میں روزانہ اس کی سماعت ہو گی۔
گزشتہ مارچ مہینے میں سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ثالثی کا حکم دے دیا تھا۔ ثالثی میں تین ارکان کو شامل کیا گیا تھا۔ ثالثی کمیٹی میں سپریم کورٹ کے سابق جج ایف ایم آئی کلی فلا، روحانی گرو اور آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل شری رام پانچو کا نام شامل ہے۔
عدالت نے کمیٹی کو ان کیمرا پروسیڈنگ اور اسے آٹھ ہفتے کے اندر پورا کرنے کے لئے کہا تھا۔ آئینی بینچ نے کہا تھا کہ تنازعے کے ممکنہ حل کے لئے ثالثی کے سلسلہ میں کوئی ‘قانونی رکاوٹ’ نہیں ہے۔
ثالثی کے فیصلہ کے تقریبا دو مہینے بعد سپریم کورٹ نے اس پر سماعت کی تھی۔ سپریم کورٹ میں یہ سماعت محض تین منٹ میں ہی ختم ہو گئی تھی۔ سماعت چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی بینچ نے کی تھی۔ ثالثی کمیٹی نے سپریم کورٹ سے 15 اگست تک کا وقت مانگا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس پر حامی بھر دی تھی۔
خیال رہے کہ ہندو مہا سبھا ثالثی کے خلاف ہے جبکہ نرموہی اکھاڑا اور مسلم فریق ثالثی کے لئے راضی ہیں۔ مسلم فریق نے عدالت میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ ہی طے کرے کہ بات چیت کیسے ہو