ایودھیا 1992 تا دہلی 2020 مسجدیں ہی بی جے پی سیاست کا اصل نشانہ

   

Ferty9 Clinic

بابری مسجد شہادت کے بعد ملک بھر میں تشدد ، گجرات فسادات میں 500 مساجد کو نقصان، دہلی فسادات میں 14 مساجد نذر آتش

نئی دہلی ۔ 16 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا 1992 ء سے دہلی 2020 ء تک بی جے پی کی پرتشدد جارحانہ سیاست میں مساجد کو طویل مدت تک اصل نشانہ بنایا جاتا رہا جس کی ایک مثال فروری کے آخری تین دن ہیں جب شمال مشرقی دہلی میں ہولناک تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہندو اکثریتی غلبہ کے نظریہ کے حامل دیگر جماعتیں مقامی مسلمانوں کے چھوٹے گروپوں کے خلاف صف آراء ہوچکی تھی۔ 2020 کے دہلی فسادات میں نہ صرف 53 ہندو مسلم ہلاک اور 300 زخمی ہوگئے بلکہ کم سے کم 14 مساجد کو نقصان پہنچایا گیا ۔ اکثر واقعات ان گنجان آبادی والی تنگ گلیوں میں رونما ہوئے جہاں مسلمانوں کے گھر اور کاروبار ہیں، ان دونوں کی منظم پیمانہ پر شناخت کے بعد لوٹ مار ، غارت گیری اور آتشزنی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سوال یہ نہیں ہے کہ آخر کتنے غیر مسلموں کے گھر اور کاروبار کو جلایا یا نقصان پہنچایا گیا تھا کیونکہ یہ تعداد مسلمانوں کو پہنچنے والے نقصانات کے مقابلہ بہت معمولی ہے ۔ تقریباً 10 مربع کیلو میٹر پر محیط علاقہ میں منظم فسادات کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اکثر حملوں میں مسلمانوں کے گھر اور کاروبار کو ہی اصل نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اگرچہ ان مسلمانوں کے گھر اور کاروبار دونوں ہی چھوٹے اور معمولی تھے لیکن پڑوس میں ہندوؤں اور مسلمانوںکی ایسی کئی کہانیاں بھی منظر عام پر آئی ہیں جنہوں نے نہ صرف تشدد کو مشترکہ طور پر مشترکہ طور پر روک دیا بلکہ اپنے علاقوں کو اشرار سے بچانے کیلئے سارے علاقہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے وہاں مشترکہ گشت جاری رکھی ۔ کئی ہندوؤں نے مسلمانوں کو اپنے گھر میں پناہ دی یا پھر محفوظ مقامات کو پہنچانے میں مدد کی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہلاکتوں کی تعداد اور بھی کئی زیادہ ہوتی لیکن چند دوسرے مقامات پر ایسا نہیں ہوسکا اور وہ علاقے تشدد سے بری طرح متاثر ہوئے جہاں بالخصوص مساجد کو نقصان پہنچایا گیا ۔ صرف 48 گھنٹوں کے دیوانہ وار تشدد میں 14 مساجد اور صوفی بزرگوں کی یادگاروں کو نذر آتش کردیا گیا لیکن اس سارے ضلع میں ایک بھی ہندو مندر کو دھکا بھی نہیں لگا اور وہ پوری طرح محفوظ رہے۔ مسجدوں پر ہونے والے سب سے بڑے اور ہولناک حملوں میںگوکل پوری میں جنتی مسجد سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ یہ تین منزلہ کنکریٹ کی عمارت 1970 ء کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس مقام پر توڑ پھوڑ اور غارت گیری کا دیوانہ وار جاری رہا ، اس دوران مقامی ہندو افراد آدھی رات کو نیند سے بیدار ہوگئے اور ان خوف و اندیشوں کے تحت گھر سے باہر نکلے کہ ہولناک زلزلہ تو نہیں آیا ہے کیونکہ سارا علاقہ آتشزنی کے دوران پھٹ پڑنے والے گیاس سلینڈروں کے دھماکوں سے دہل چکا تھا اور آسمان پر دھوئیں کے سیاہ بادل منڈلا رہے تھے ۔ ضلع دہلی کے غریبی سے متاثرہ علاقوں میں شامل ملن گارڈنس کی مدینہ مسجد اور دیگر مساجد کو بھی ایسی ہی نقصانات پہنچے جہاں 20 نوجوانوں کے ہجوم نے دن دہاڑے اس مسجد پر آتشی بم پھینکا جس کے ساتھ ہی ساری مسجد شعلہ پوش ہوگئی تھی۔ مسلمانوں اور ان کی مسجد وں کو نشانہ بنانا بی جے پی اور اس کی نظریہ ساز تنظیم آر ایس ایس کا ابتداء سے ایک پسندیدہ حربہ رہا ہے اور وہ 1992 ء سے ان ہی حربوں کے ذریعہ آگے بڑھتی رہی ہے۔ 1992 ء میں آر ایس ایس اور بی جے پی کارکنوں نے اپنی ملک گیر سیاسی مہم کے ایک حصہ کے طور پر ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کردیا تھا ۔ بابری مسجد کی انہدامی کے بعد سارے ملک میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے تھے اور ملک کے جمہوری و سیکولر تانے بانے کو خطرہ لاحق ہوچکا تھا لیکن بی جے پی نے اس کا بھرپور سیاسی فائدہ ا ٹھایا۔ 1996 ء کے انتخابات میں بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 85 میںدوگنے اضافہ کے ساتھ 161 تک پہنچ گئی تھی۔ 2002 ء کے مسلم کش گجرات فسادات میں 1000 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور مسلمانوں کے گھر اور کاروبار کو تشدد و غارت گیری کا نشان بنایا گیا تھا اور 500 سے زائد مسجدوں و مذہبی مقامات کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔